*🌹سورہ اٰلِ عمران آیت نمبر 151.150🌹*
*بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْۚ-وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ(۱۵۰)*
*ترجمۂ کنز العرفان*
*بلکہ اللہ ہی تمہارا مدد گارہے اور وہی سب سے بہترین مددگارہے۔*
*تفسیر صراط الجنان*
*{بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ: بلکہ اللہ ہی تمہارا مدد گارہے۔}*
کافروں کی بات ماننے سے روکنے کے بعد فرمایا کہ یاد رکھو کہ یہ کافر تمہارے مددگار نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی تمہارا مدد گارہے اور وہی سب سے بہترین مددگار ہے، لہٰذا تم اس کی اطاعت کرو کیونکہ ہر ایک اپنے مولا کی اطاعت کرتا ہے توجب اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا مولا ہے تو تم اسی کی اطاعت کرو۔
*آیت نمبر 151*
*سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًاۚ-وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُؕ-وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ(۱۵۱)*
*ترجمۂ کنز العرفان*
*عنقریب ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرایا جس کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانہ آگ ہے اوروہ ظالموں کا کتنا برا ٹھکانہ ہے۔*
*تفسیر صراط الجنان*
*{سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ: عنقریب ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے۔}*
اس آیت میں غیب کی خبر ہے، جب ابو سفیان وغیرہ جنگ احد کے بعد واپس ہوئے تو راستہ میں خیال کیا کہ کیوں لوٹ آئے، سب مسلمانوں کو ختم کیوں نہ کر دیا حالانکہ یہ اچھا موقعہ تھا۔ جب واپس ہونے پر آمادہ ہوئے تو قدرتی طور پر ان تمام کے دلوں میں مسلمانوں کا ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مکہ چلے گئے اور یہ خبر پوری ہوئی۔
(بیضاوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۵۱، ۲ / ۱۰۲)
0 تبصرے