*🌹سچی محبت 🌹*

سعودی عرب کے ایک شخص نے کسی فلپائنی عورت سے چھپ کر شادی کی چونکہ وہ پہلے ہی شادی شدہ تھا اور پہلی بیوی کے ساتھ اولاد بھی تھیں، جب اس شخص کو بیماری لاحق ہوئی تو اس نے اپنے پہلے بیوی کیساتھ جو اولاد تھیں ان کو وصیت کیلئے جمع کیا اور ان میں سے اپنے بڑے بیٹے کو بتایا ۔۔" بیٹا میں نے چھپ کے کسی فلپائنی عورت سے بھی شادی کی ہوئی ہے۔ میرے بعد ان کا خیال رکھنا اور وراثت میں انکو بھی حق دینا اور ساتھ ہی انکا مکمل پتہ بھی دیا جہاں وہ رہتی تھی، کچھ دن بعد وہ شخص وفات پا گیا تو ان کے بیٹے قاضی کے پاس گئے اور پوری تفصیلات بتا دی، قاضی نے فیصلہ رکوا دیا اور یہ حکم دیا کہ فلپائنی عورت کو بھی یہاں پیش کریں تو بڑا بیٹا اپنے والد مرحوم کے دیئے ہوئے پتے کے مطابق فلپائن پہنچا بڑی مشکل سے اس گلی میں پہنچا جہاں وہ رہتی تھی ۔۔۔ !!



دوسری طرف وہ عورت جو اس کے والد کی زوجہ تھی انہیں دیکھ کر ہی بتا دیا، "میں وہی عورت ہوں جس کی تو تلاش کر رہا ہے اور مجھ تک یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے۔" تو بیٹے نے بھی ساری تفصیلات بتا دی اور انکو سعودیہ کی طرف سفر کے لئے قائل کیا اور اپنی دوسری ماں کو لیکر سعودی پہنچے اور سیدھا قاضی کے پاس گئے تو اس عورت کی حصے میں 8 لاکھ ریال آیا (جو پاکستانی روپیوں میں تقریبا 2کروڑ 16لاکھ کے لگ بھگ بنتے ہیں) اور ساتھ ہی قاضی نے حکم دیا انکو عمرہ کی ادائیگی کے بعد فلپین روانہ کیا جائے بڑے بیٹے نے ایسا ہی کیا۔

اس کے واقعہ کے ٹھیک چار سال بعد بڑا بیٹا فلپائن اپنے دوسری ماں سے ملنے اور حال احوال پوچھنے کی غرض سے گیا تو وہاں پہنچ کر اس کو بہت تعجب ہوا اور اس سے کہا ماں جی آپ کو اتنی بڑی رقم وراثت ملنے کے باوجود وہی پرانے خستہ حال مکان میں رہ رہی ہے؟ ماں جی اسکا ہاتھ پکڑ کر ایک جگہ پر لے گئیں جہاں ​ایک بڑا اسلامی ادارہ قائم تھا، وہاں حفظ القرآن کا شعبہ بھی تھا اور یتیم خانہ بھی، ماں جی نے کہا "بیٹا سر اٹھا کر ادارے کے بورڈ کی طرف دیکھنا ۔۔۔ بورڈ دیکھ کر بیٹے کی آنکھوں میں آنسو امڈ آ گئے کیوں کہ بورڈ پر انکے والد کا نام لکھا ہوا تھا، اس نیک صفت عورت نے کہا "میں نے یہ ادارہ اپنے وراثت کے پیسے سے بنایا ہے اور اپنے شوہر کے نام پر وقف کیا ہے۔ تاکہ ان کو اس ادارے کی وجہ سے ثواب ملتا رہے" یہ تھی سچی محبت ورنہ اس پیسے سے وہ ایک عالی شان بنگلہ بھی بناسکتی تھی پر انہوں نے سوچا محبت کے مقابلے میں عالی شان بنگلہ کی کیا حیثیت بنگلہ تو عارضی چیز ہے البتہ یہ اسلامی ادارہ انکو اور انکے شوہر کو آخرت میں کام آئیگا۔​

جب بیٹا سعودیہ واپس آیا تو اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا تمام بھائی اس رات جاگتے رہے اور باہم مل کر چندہ جمع کیا اسی ایک رات میں 5 ملین ریال اپنے والد مرحوم سے منسوب اس ادارہ کیلئے انہوں نے چندہ جمع کیا جس کو انکی دوسری ماں نے انکے والد سے بے لوث محبت کی بنیاد پر قائم کی تھی۔ سبحان اللہ.....!!!!


(عربی اخبار کے ایک کالم کا ترجمہ ..)

*"اس زمانہ میں رئیسوں کی اولادیں وراثتی رقم کے حصول کے لئے اپنے والدین کے مرنے کا انتظار کرتی ہیں اور جو سچی محبت کرتے ہیں وہ اپنے مرنے والے کو توشئہ آخرت بھیجنے کی فکر میں رہتے ہیں۔*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے