*╭┄┅┅┅─══❁﷽❁══─┅┅┅•┄╮*
*🤝اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
. عرب کے ایک بوڑھے کے پاس ایک بہت خوبصورت اور تیز رفتار گھوڑا تھا…… لوگ اس کى منہ مانگی قیمت پر خریدنے پر تیار تھے مگر وہ اسے کسى قیمت پر فروخت کرنے کو تیار نہیں تھا. جہاں گھوڑے کی خوبیاں تھی وہاں اسے فروخت نہ کرنے کی ایک وجہ اس گھوڑے سے اس کی گہری محبت بھی تھی ……
گھوڑے کى شہرت سُن کر ایک روز عرب کا نامى گرامی شہسوار اس بوڑھے کے پاس آیا اور ایک خطیر رقم کے عوض گھوڑے کا سودا کرنا چاہا……
لیکن بوڑھے نے کسى قیمت پر گھوڑا نہ دینے کا پکا ارادہ کر رکھا تھا……
شہسوار جاتے وقت بولا ……ایک بات یاد رکھنا جو چیز مجھے پسند ہوتی ہے میں اسے حاصل کر کے رہتا ہوں……
خیر وقت گزرتا گیا اور بوڑھا شخص کچھ دنوں بعد اس بات کو بھول چکا تھا. ایک روز وہ بوڑھا اپنے گھوڑے پر سوار کسى جنگل سے گزر رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک کمزور اور بیمار آدمی دیکھا جو کسى سواری کا محتاج تھا……اس نے بوڑھے سے اپنی مجبوری اور ضرورت کا حال انتہاٸی درد انگیز الفاظ میں بیان کیا اور مدد کی درخواست کی…۔بوڑھا نہایت رحم دل تھا اسے اس مجبور انسان پر فورا ترس آگیا ۔ چنانچہ بوڑھے نے بغیر حیل و حجت کے اسے اپنا قیمتی گھوڑا دے دیا ۔وه آدمى گھوڑے پر سوار ہوتے ہى تندرست و توانا اور خوش نظر آنے لگا. اب اُس نے اپنے چہرے سے چادر اُتارى تو بوڑھا حیران ھو گیا کہ یہ تو وہی شہسوار تھا...
*شہسوار نے ہنستے ہوئے زہر بھرے لہجے میں کہا اے بوڑھے میں نے کہا تھا نا کہ مجھے جو پسند ہو وہ میں لے کر ہی دم لیتا ہوں ۔ دیکھو میری مہارت کہ تم نے خود اس گھوڑے کی لگام اور ملکیت مجھے سونپ دی ہے.……
اس کی بات سن کر بوڑھے نے کہا اب گھوڑا تمھارا ہی ہے تم نے واقعی اسے حاصل کر لیا ہے اب میں تم سے اسے واپسی کا مطالبہ نہیں کروں گا البتہ میری تم سے ایک التجا ہے کہ اگر لوگ تم سے اس گھوڑے کے بارے میں پوچھیں تو کہنا کہ بوڑھے نے تحفہ دیا ہے ۔ شہسوار نے کہا میں ایسا کیوں کہوں ۔
بوڑھے نے کہا *اگر یہ کہو گے کہ مجھ جیسے بوڑھے کو تم نے ایک ضرورت مند بن کر بیوقوف بنایا اور اپنی من پسند چیز حاصل کر لی تو لوگ ضرورت مندوں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے اور کوئی کسى کى مدد نہیں کرے گا کہ کہیں ہمیں بیوقوف تو نہیں بنایا جا رہا....!!!
*کیا آج آپنے درودِ پاک پڑھا؟*
*صلی اللہ علیہ والہ وسلم*
۔ ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
0 تبصرے