اپنی بیٹی کو آپ جیسی چاہیں جدید تعلیم دلوائیں مگر ان کو گھر کے کام ضرور سیکھائیے انہیں سر چڑھا کر ناکارہ مت بننے دیں
محبت کریں بیٹیوں کے احساسات کا خیال کریں
ان کو اچھائی برائی میں فرق سیکھا کر ضرورت کے مطابق آزادی بھی دیں مگر ساتھ ہی ساتھ انہیں یاد دلاتی رہیں کے ان کے ہاتھوں میں آپ کی عزت ہے
ماسیوں کی عادت نہ ڈالیں اسے چھوٹی عمر سے گھریلو سرگرمیوں میں شامل کریں تاکہ انہیں بڑے ہو کر اور سسرال جا کر کام کرنا ظلم نہ لگے اپنی بیٹی کو کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی نہ بنائیے
جس طرح ایک مرد جو کمانے سے جی چرائے اور اپنی بیوی بچوں کی ذمہ داری نہ اٹھائے وہ عوامی زبان میں ہڈ حرام کہلاتا ہے
بالکل اسی طرح وہ عورت جو گھر کے کاموں سے جی چرائے جیسے گھر سمبھالنا نہ آئے وہ بھی اس نکمے مرد کی طرح ہڈ حرام کہلانے کی مستحق ہوتی ہے
بیٹیوں کی شادی سے پہلے ان کے منہ میں لگی چوسنی چھڑوا دیں
سسرال والے آپ کی بیٹی کو بہو بنانے آئینگے اسے گود لینے نہیں کم از کم اتنا کام ضرور سیکھا کر بھیجیں کے لڑکی کو وہاں کا کام دیکھ کر یہ حیرانی نہ ہو کہ اچھا گھر میں یہ سب بھی ہوتا ہے ؟
اپنی بیٹیوں کو ایک مکمل ذمہ دار عورت بنائیے.
اشد ضرورت اور دکھ بیماری کے وقت ملازموں کی مدد ضرور لی جا سکتی ہے مگر خود کو ان کا عادی بنا لینا کاہلی اور سستی کے سوا اور کچھ نہیں
آپ کی بیٹی کی گود میں آپ کی اور اس کے نصیب میں لکھے ہوئے مرد کی پوری نسل پروان چڑھے گی ایک نکھٹو عورت پوری نسل کو نکمہ بنانے کی طاقت رکھتی ہے
ہمارے ارد گرد ایسے کئی سلجھے ہوئے اور پڑھے لکھے خاندان موجود ہیں کہ جن کے گھر کے ماحول اور نسل کو ایک نکمی عورت نے آ کر تباہ کیا خدارا اپنی بیٹیوں کو ناکارہ مت بنایے۔
0 تبصرے