*🌹مقصدِ زندگی اور اصل خوشیاں؟ 🌹*

ایک عالم اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لئے کھیتوں میں سے گزر رہے تھے چلتے چلتے ایک پگڈنڈی پر ایک بوسیدہ جوتا دکھائی دیا صاف پتہ چل رہا تھا کہ کسی بڑے میاں کا ہے قریب کے کسی کھیت کھلیان میں مزدوری سے فارغ ہوکر اسے پہن کر گھر کی راہ لیں گے شاگرد نے جنابِ شیخ سے کہا 

حضور! کیسا رہے گا کہ تھوڑی دل لگی کا سامان کرتے ہیں جوتا اِدھر اُدھر کر کے خود بھی چھپ جاتے ہیں

وہ بزرگوار آکر جوتا مفقود پائیں گے تو ان کا ردِ عمل دلچسپی کا باعث ہوگا

*شیخ کامل نے کہا بیٹا اپنے دلوں کی خوشیاں دوسروں کی پریشانیوں سے وابستہ کرنا کسی طور بھی پسندیدہ عمل نہیـں*

بیٹا تم پر اپنے رب کے احسانات ہیں ایسی قبیح حرکت سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اپنے رب کی ایک نعمت سے تم اس وقت ایک اور طریقے سے خوشیاں اور سعادتیں سمیٹ سکتے ہو اپنے لئے بھی اور اس بیچارے مزدور کے لئے بھی ایسا کرو کہ جیب سے کچھ نقد سکے نکالو اور دونوں جوتوں میں رکھ دو پھر ہم چھپ کے دیکھیں گے جو ہوگا بلند بخت شاگرد نے تعمیل کی اور استاد و شاگرد دونوں جھاڑیوں کے پیچھے دبک گئے

کام ختم ہوا بڑے میاں نے  آکر جوتے میں پاؤں رکھا تو سکے جو پاؤں سے ٹکرائے تو ایک ہڑبڑاہٹ کے ساتھ جوتا اتارا تو وہ سکے اس میں سے باہر آگئے ایک عجیب سی سرشاری اور جلدی میں دوسرے جوتے کو پلٹا تو اس میں سے سکے کھنکتے باہر آگئے اب بڑے میاں آنکھوں کو ملتے ہیں

دائیں بائیں نظریں گھماتے ہیـں

یقین ہوجاتا ہے کہ خواب نہیـں تو آنکھیں تشکر کے آنسوؤں سے بھر جاتی ہیـں

بڑے میاں سجدے میں گر جاتے ہیـں 

استاد و شاگرد دونوں سنتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے کچھ یوں مناجات کر رہے ہیـں

میرے مولا! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں تو میرا کتنا کریم رب ہے تجھے پتہ تھا کہ میری بیوی بیمار ہے بچے بھی بھوکے ہیـں

مزدوری بھی مندی جا رہی ہے 

تو نے کیسے میری مدد فرمائی ان پیسوں سے بیمار بیوی کا علاج بھی ہوجائے گا کچھ دنوں کا راشن بھی آ جائے گا ادھر وہ اسی گریہ و زاری کے ساتھ اپنے رب سے محو مناجات تھے اور دوسری طرف استاد و شاگرد دونوں کے ملے جلے جذبات اور ان کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے لبریز تھیں کچھ دیر کے بعد شاگرد نے دست بوسی کرتے ہوئے عرض کیا 

*استاد محترم! آپ کا آج کا سبق کبھی نہیـں بھول پاؤں گا آپ نے مجھے مقصدِ زندگی اور اصل خوشیاں سمیٹنے کا ڈھنگ بتا دیا ہے*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے