*”رشتہ ڈھونڈنے کا عجیب رواج“*

🥀 لڑکوں کا رشتہ تلاش کرنے میں ہمارے ہاں ایک رجحان عجیب و غریب انداز سے بڑھ رہا ہے جو کم از کم برصغیر کی حد تک اور بالخصوص پنجاب میں بہت کم تھا یا بالکل اس کا وجود نہیں تھا، 

وہ یہ کہ کسی گھرانے کو اپنے کسی لڑکے کے لیے *رشتے کی تلاش* ہو تو *ماؤں بہنوں کی پوری فوج، لاؤ لشکر سمیت* کبھی ایک گھر دھاوا بول رہی ہوتی ہے اور کبھی دوسرے گھر ۔ اس دوران بچی کے والدین اور خود لڑکی کس قدر ذہنی کوفت وکرب سے گزرتی ہے اس کا اندازہ شاید ان سیر سپاٹے کی شوقین خواتین کو نہیں ہوتا یا اگر ہوتا ہے تو اپنے غرور میں اس کی پروا نہیں ہوتی، کبھی ایک لشکر آ رہا ہے تو کبھی دوسرا لشکر ۔

*اور اس سے بھی بڑھ کر ذہنی بیمار خواتین کا یہ قبیح فعل ہوتا ہے کہ جیسے ہی لڑکی دیکھ کر آئیں گی آتے ہی نہایت گھٹیا انداز میں تبصرے شروع ہو جائیں گے،

اس کا ناک موٹا تھا، اس کی آنکھیں چھوٹی تھیں، قد میں جھول تھا، چلنے کا طریقہ یوں تھا وغیرہ وغیرہ ۔ پھر بنا کسی تمیز و لحاظ کے نہایت بھونڈے انداز میں، بے شرمی و ڈھٹائی کے ساتھ بغیر کسی وجہ کے رشتے منع کرتی جائیں گی۔ ان میں سے اکثر خود نہایت بد صورت و بھدی ہوتی ہیں جو احساس کمتری کی شکار ہوتی ہیں اور اپنے آپ کو کسی حور سے کم نہیں سمجھتیں*، 


💝 حالانکہ رشتے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جو " *دین کی ترجیح*" بیان فرمائی ہے اسے ملحوظ خاطر رکھ لیا جائے اور مزید لڑکا لڑکی کا خوبصورتی، قد کاٹھ اور خاندان و گھریلو ماحول کے لحاظ سے مناسب جوڑ اور ہم پلہ ہونا دیکھ لیا جائے تو کافی ہے، *اس کے علاوہ دوسری تیسری چیز کو وجہ بنا کر رشتہ ٹھکرانا کسی صورت بھی درست نہیں اور نہ ہی خاندانی، معزز لوگوں کا طرزِ عمل ایسا ہوتا ہے* ۔

ہاں بسا اوقات دیکھنے والوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے بچوں کا یہ جوڑ درست نہیں رہے گا، چاہے وہ خوبصورتی میں ہو یا کسی دوسری چیز میں، تو ایسی صورت میں بھی رشتہ منع کرتے ہوئے چھوٹے قد، موٹے ناک جیسے گھٹیا بہانے بنانے کی بجائے کسی کا دل توڑے بغیر اشارے کنایے میں بات کی جائے ۔  *علماء رحمہم اللہ نے بالخصوص اس مسئلے کی طرف توجہ کی ہے کہ جہاں منگیتر کو نظرِ شرعی دیکھنے کی اجازت کا حکم ہے وہاں ایک نہایت اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر دیکھنے کے بعد مخطوبہ کا حسن وجمال پسند نہ آئے تو اپنی ناپسندیدگی کی وضاحت کیے بغیر صرف خاموشی سے ہی رشتہ نہ کرنے کا اشارہ ظاہر کیا جائے کیونکہ صراحت کے ساتھ کسی کو ٹھکرانا اور بالخصوص بد صورتی کا طعنہ دے کر ٹھکرانا اس کا دل توڑنے اور تکلیف دینے کا سبب ہے* ۔ 


🎙️ چنانچہ *حافظ نووی رحمہ اللہ* (676ھ) فرماتے ہیں :

وإذا نَظَرَ فَلَمْ تُعْجِبْهُ، فَلْيَسْكُتْ، ولا يَقُلْ: لا أُرِيدُها، لِأنَّهُ إيذاءٌ .

” *جب کوئی شخص (نکاح کی نیت سے عورت کو) دیکھے اور وہ اسے اچھی نہ لگے تو (رشتے کی بات آگے بڑھانے سے) خاموش ہو جائے، سیدھا ہی یوں نہ کہے کہ میں اس (سے شادی نہیں کرنا) چاہتا، کیونکہ یہ بات باعثِ تکلیف ہوتی ہے*۔“

(روضة الطالبين : 7/ 21)

اسی طرح " *الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ*" میں ہے :

" *اگر کوئی شادی کے ارادے سے لڑکی کو دیکھے اور وہ اسے پسند نہ آئے تو خاموش ہو جائے (یعنی اشارے کنایے میں منع کرے) سیدھا ہی یوں نہ کہے کہ میں اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ (اس لڑکی اور والدین کے لئے) تکلیف کا باعث ہے*۔"

(الموسوعہ الفقہیہ الکویتہ : 19/ 202)



❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁

۔  ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ عجیب رواج“*


🥀 لڑکوں کا رشتہ تلاش کرنے میں ہمارے ہاں ایک رجحان عجیب و غریب انداز سے بڑھ رہا ہے جو کم از کم برصغیر کی حد تک اور بالخصوص پنجاب میں بہت کم تھا یا بالکل اس کا وجود نہیں تھا، 

وہ یہ کہ کسی گھرانے کو اپنے کسی لڑکے کے لیے *رشتے کی تلاش* ہو تو *ماؤں بہنوں کی پوری فوج، لاؤ لشکر سمیت* کبھی ایک گھر دھاوا بول رہی ہوتی ہے اور کبھی دوسرے گھر ۔ اس دوران بچی کے والدین اور خود لڑکی کس قدر ذہنی کوفت وکرب سے گزرتی ہے اس کا اندازہ شاید ان سیر سپاٹے کی شوقین خواتین کو نہیں ہوتا یا اگر ہوتا ہے تو اپنے غرور میں اس کی پروا نہیں ہوتی، کبھی ایک لشکر آ رہا ہے تو کبھی دوسرا لشکر ۔

*اور اس سے بھی بڑھ کر ذہنی بیمار خواتین کا یہ قبیح فعل ہوتا ہے کہ جیسے ہی لڑکی دیکھ کر آئیں گی آتے ہی نہایت گھٹیا انداز میں تبصرے شروع ہو جائیں گے،

اس کا ناک موٹا تھا، اس کی آنکھیں چھوٹی تھیں، قد میں جھول تھا، چلنے کا طریقہ یوں تھا وغیرہ وغیرہ ۔ پھر بنا کسی تمیز و لحاظ کے نہایت بھونڈے انداز میں، بے شرمی و ڈھٹائی کے ساتھ بغیر کسی وجہ کے رشتے منع کرتی جائیں گی۔ ان میں سے اکثر خود نہایت بد صورت و بھدی ہوتی ہیں جو احساس کمتری کی شکار ہوتی ہیں اور اپنے آپ کو کسی حور سے کم نہیں سمجھتیں*، 


💝 حالانکہ رشتے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جو " *دین کی ترجیح*" بیان فرمائی ہے اسے ملحوظ خاطر رکھ لیا جائے اور مزید لڑکا لڑکی کا خوبصورتی، قد کاٹھ اور خاندان و گھریلو ماحول کے لحاظ سے مناسب جوڑ اور ہم پلہ ہونا دیکھ لیا جائے تو کافی ہے، *اس کے علاوہ دوسری تیسری چیز کو وجہ بنا کر رشتہ ٹھکرانا کسی صورت بھی درست نہیں اور نہ ہی خاندانی، معزز لوگوں کا طرزِ عمل ایسا ہوتا ہے* ۔

ہاں بسا اوقات دیکھنے والوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے بچوں کا یہ جوڑ درست نہیں رہے گا، چاہے وہ خوبصورتی میں ہو یا کسی دوسری چیز میں، تو ایسی صورت میں بھی رشتہ منع کرتے ہوئے چھوٹے قد، موٹے ناک جیسے گھٹیا بہانے بنانے کی بجائے کسی کا دل توڑے بغیر اشارے کنایے میں بات کی جائے ۔  *علماء رحمہم اللہ نے بالخصوص اس مسئلے کی طرف توجہ کی ہے کہ جہاں منگیتر کو نظرِ شرعی دیکھنے کی اجازت کا حکم ہے وہاں ایک نہایت اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر دیکھنے کے بعد مخطوبہ کا حسن وجمال پسند نہ آئے تو اپنی ناپسندیدگی کی وضاحت کیے بغیر صرف خاموشی سے ہی رشتہ نہ کرنے کا اشارہ ظاہر کیا جائے کیونکہ صراحت کے ساتھ کسی کو ٹھکرانا اور بالخصوص بد صورتی کا طعنہ دے کر ٹھکرانا اس کا دل توڑنے اور تکلیف دینے کا سبب ہے* ۔ 


🎙️ چنانچہ *حافظ نووی رحمہ اللہ* (676ھ) فرماتے ہیں :

وإذا نَظَرَ فَلَمْ تُعْجِبْهُ، فَلْيَسْكُتْ، ولا يَقُلْ: لا أُرِيدُها، لِأنَّهُ إيذاءٌ .

” *جب کوئی شخص (نکاح کی نیت سے عورت کو) دیکھے اور وہ اسے اچھی نہ لگے تو (رشتے کی بات آگے بڑھانے سے) خاموش ہو جائے، سیدھا ہی یوں نہ کہے کہ میں اس (سے شادی نہیں کرنا) چاہتا، کیونکہ یہ بات باعثِ تکلیف ہوتی ہے*۔“

(روضة الطالبين : 7/ 21)

اسی طرح " *الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ*" میں ہے :

" *اگر کوئی شادی کے ارادے سے لڑکی کو دیکھے اور وہ اسے پسند نہ آئے تو خاموش ہو جائے (یعنی اشارے کنایے میں منع کرے) سیدھا ہی یوں نہ کہے کہ میں اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ (اس لڑکی اور والدین کے لئے) تکلیف کا باعث ہے*۔"

(الموسوعہ الفقہیہ الکویتہ : 19/ 202)



❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁❁

۔  ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے