ایک دانا شخص کی دو بیٹیاں تھیں

 *╭┄┅┅┅─══❁﷽❁══─┅┅┅•┄╮*

     *🤝​اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎​*  

 ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖



ایک دانا شخص کی دو بیٹیاں تھیں ایک کسان کو بیاہ دی دوسری بیٹی کی شادی کوزہ گر (مٹی کے برتن بنانے والا) کے ساتھ کر دی، سال بعد بیٹیوں کے حال احوال جاننے کیلئے وہ شخص ان کے گاؤں اور شہر چلے جاتے ہیں۔


جو بیٹی کسان کو بیاہ دی ہے وہ خوش دلی سے باپ کا والہانہ استقبال کرتی ہے، خیر خیریت اور کسبِ معاش سے متعلق پوچھنے پر بتاتی ہے کہ ادھار بیج خرید کر کھیت کھلیان آباد کیے ہیں اب بارش کا انتظار ہے، بارش ہوئی تو سمجھیں رحمت ورنہ زحمت اور مصیبت۔


وہاں سے رخصت ہو کر کمہار کی بیوی کے پاس پہنچتے ہیں بیٹی باپ کا خوب استقبال کرتی ہے، خیر خیریت اور کسبِ معاش سے متعلق سوال پر بتاتی ہے کہ بڑی محنت سے کچھ برتن بنا کر سوکھنے کیلئے دھوپ میں رکھے ہیں، اب بارش نہ ہوئی تو اللہ کا کرم، بارش ہوئی تو زحمت اور مصیبت۔


وہ شخص گھر پہنچتا ہے بیگم دونوں بیٹیوں کا حال پوچھتی ہے وہ جواب دیتے ہیں کہ 


بارش ہوئی تو الحمد للہ اور اگر بارش نہ ہوئی تو بھی الحمد للہ ۔


سبق اور عبرت :


جو چیز آپ کے لئے مناسب ہو ضروری نہیں وہ دوسرے کیلئے بھی مناسب ہو اور جو آپ کے لئے مناسب نہیں وہ دوسرے کیلئے بھی نامناسب ہو یہ لازمی نہیں ہے۔


یہ دنیا ہے یہ ایسی ہی ہے لہٰذا ہر حال میں اللہ کا شکر کیجئے۔

۔  ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے