♥️ _*عورت قدرت کی حسین تخلیق ہے*_ ♥️

 *╭┄┅┅┅─══❁﷽❁══─┅┅┅•┄╮*

     *🤝​اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎​*  

 ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖


اُس کی تخلیق کا مقصد ہی ایک بہترین ساتھی اور سُکون دینا ہے عورت کو اللّٰه نے حضرت آدمؑ کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا عورت کی فضیلت کا اندازہ آپ اتنی سی بات سے لگا سکتے ہیں کہ جس مٹیریل سے اُس کی تخلیق ہوئی اُسے اشرف المخلوقات قرار دیا گیا

فرشتوں نے اسے سجدہ کیا اور سب سے اہم افضلیت عورت کے لیے یہ ہے کہ اُسی کے بطن سے

*سَیِّدُ الْبَشَرْ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ*

کا ظہور ہوا ہے


افسوس کے زمانہ جہالیت میں عورت کی بہت تذلیل کی گئی بیٹیوں کو زندہ درگور اور شریکِ حیات کو پاؤں کی جُوتی سمجھا جانے لگا ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے بیوہ کو معاشرے سے دُھتکار دیا گیا بیٹیوں کو جائیداد سے خارج کیا گیا حقوق کی پامالی عُروج پر تھی کہ ایسے میں مذہبِ اسلام کا ظہور ہوا اسلام نے عورت کو مکمل حقوق سے نوازا بیٹیوں کو رحمت قرار دیا اور بیٹیوں کی اچھّی پرورش پر جنّت کی بشارت عطا کی گئی بیوہ کو جائیداد میں حصّہ دار بنایا زوجہ کو گھر کی ملکہ بنایا

دودھ شریک ماں کے لیے

*رَحْمَةُ الْلعَالَمِينَ*

نے خود اپنی چادرِ مُبارک بچھائی ہے دراصل یہی وہ مقام ہے جو عورت کا حق ہے جنگوں کے دوران عورتوں کا کردار بڑا اہم رہا زخمیوں کا پانی پلانا اور ان کی تیمار داری عورتوں کے ذمہ رہی صَلاحُ الدّین ایوّبیؒ کی فتوحات میں عورتوں کی جاسوسی نے بہترین کردار پیش کیا بات موجودہ معاشرے کی کی جائے تو آج ہم ترقی یافتہ تعلیم یافتہ اور پر شعور ہونے کے باوجود بھی حقوق ادا نہیں کر پا رہے عورتیں مرد کے ساتھ کندھے سے کندھا جوڑ کر چلنا تو چاہتی ہیں پر لیڈیز فرسٹ کی آڑ میں مردوں کے حقوق پامال کرتی نظر آتی ہیں۔


عورتیں ملک پر حکومت تو کرنا چاہتی ہیں پر دس منٹ کسی قطار میں کھڑا ہونا اُن کی نازکیت گوارا نہیں کرتی ایک عورت مرد کے برابر حقوق تو مانگتی ہے پر اپنے فرائض کو بھول جاتی ہے خاندانی جاگیرداری نے پھر سے جہالت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے فُضول رُسومات سے اپنی ہی بیٹیوں کی قدر گرا دی گئی ہے ہم ایک عجیب ذہنیت کے حامل لوگ ہیں مذہب سے صرف اختلاف ہی نہیں کرتے بلکہ اُس کی مُخالفت میں با قاعدہ مثال بناتے ہیں۔


اسلام مونچھیں پست کرنے کا حُکم دیتا ہے ہمارے معاشرے میں مونچھیں مرد کی نشانی ہیں اسلام پردے میں عورت کو قیمتی قرار دیتا ہے

ہمارے معاشرے کی سوچ میں پردہ کامیابی میں رکاوٹ ہے

جہاں اسلام ایک غیر مرد سے اشّد ضُرورت میں رُعب دار آواز میں بات کرنے کا حُکم دیتا ہے وہاں ہم نے اپنے کاروبار میں اضافے کے لیے بے پردہ اور دِل فریب آواز والی خواتین کو بٹھایا ہوا ہے

بس عورت کو اپنا مقام پہچاننے کی ضُرورت ہے میں لکھنا چاہتا تھا وہ فرق جو ایک مرد و عورت میں رکھ کر ذمہ داریاں بانٹی گئی بڑے ہی سخت الفاظ میں کہنا چاہوں گا


عورت اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو بھول کر مرد کے شانہ بشانہ چلنے کی ضد میں خود اپنا مقام کھو رہی ہے اپنے خاوند کا ذریعہ معاش میں ہاتھ بٹانا کوئی بُری بات نہیں خود مختار ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن اُس ہاتھ بٹانے میں اِس خود مختاری میں اسلام کو پیچھے چھوڑ جانا بُری بات ہے۔

۔  ➖➖➖➖➖➖➖➖➖

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے