*🌹منزل کی تلاش🌹* (نوجوانو کو یہ تحریر ضرور پڑھنی چاہیئے)

نوجوان کی زندگی میں ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب اُسے عملی زندگی میں قدم رکھنا ہوتا ہے۔ اس کے لئے کچھ نوجوان اسلامی بھائی پہلے ہی سے غور وفکر اور مشورے سے اپنی منزل کا تعیّن کرلیتے ہیں پھر اسی راستے پر چلتے ہیں جو منزل کی طرف جاتا ہے، اِس کو منزل کی تلاش یا کیرئیر پلاننگ کہا جاتا ہے۔  

ایسے نوجوان اپنی منزل کو پانے میں اکثر کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ بعض نوجوان اِس حوالے سے کچھ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے ،چنانچہ اپنی منزل بھی مقرر نہیں کر پاتے پھر جب انہیں عملی زندگی میں قدم رکھنا ہوتا ہے تو اُن کی پریشانی دیکھنے والی ہوتی ہے کہ ہم کیا کریں! کدھر جائیں!


اللہ تعالیٰ کی رحمت شاملِ حال ہوتو کیرئیر پلاننگ ہمیں بہت سی پریشانیوں سے بچاسکتی ہے، اِس حوالے سے چند باتوں پر عمل کرنا مفید ہوگا۔


*پہلی بات:*


منزل یا شعبے کا تعین بہت ضروری ہے مثلاً آپ کو کمپیوٹر کے شعبے میں کام کرنا ہے یا پرنٹنگ کے؟ یہ سوچنا کہ دنیا میں اتنے کام دھندے ہیں میں کچھ بھی کرلوں گا، نقصان دہ ہے۔ وہ کس طرح! اس کو سمجھنے کے لئے ایک حکایت پڑھئے: 


ایک شخص چار خرگوش لئے جارہا تھا، ایک جگہ وہ چاروں خرگوش اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گئے اور ہر خرگوش الگ سمت میں بھاگا۔


اب وہ شخص پہلے سیدھی طرف بھاگنے والے خرگوش کو پکڑنے کے لئے بھاگا مگر جلد ہی تھک گیا اور اپنی جگہ واپس آگیا، پھر یہ سوچ کر اُلٹی طرف والے خرگوش کے پیچھے بھاگا کہ اب اُس کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہاں بھی ناکامی ہوئی تو سامنے کی طرف جانے والے خرگوش کے پیچھے گیا مگر تھک کر جلد ہی لَوٹ آیا، اسی طرح چوتھے خرگوش کے معاملے میں ہوا۔ وہ اپنی جگہ کھڑا ہانپ رہا تھا کہ ایک سمجھدار شخص وہاں سے گزرا، ماجرا پوچھا تو اُس نے ساری بات بتادی۔


وہ شخص کہنے لگا کہ اگر تم اپنی توانائی ایک ہی خرگوش کو پکڑنے میں خرچ کرتے تو اُسے پکڑنے میں کامیاب ہوجاتے لیکن تم نے اپنی تھوڑی تھوڑی قوّت چاروں کو پکڑنے پر لگا دی اور تمہارے ہاتھ ایک بھی خرگوش نہیں آیا۔ 


تو میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ہم اپنی منزل طے کرلیں گے تو راستہ بھی مل جائے گا اور پھر ہم اُس راستے پر چلنے کے تقاضے پورے کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزّوَجَلَّ منزل پر پہنچ جائیں گے۔


*دوسری بات:*


منزل کا تعیّن کرتے وقت صرف خواہش کو پیشِ نظر نہ رکھیں کہ اِس شعبے میں کام کرنے کی صورت میں راحت وعزت اور عیش وعشرت ہوگی، خوب مزے میں رہوں گا بلکہ یہ بھی دیکھ لیجئے کہ وہ کام شرعی طور پر جائز بھی ہے یا نہیں؟


*تیسری بات:*


اُس شعبے میں کام کرنے کے لئے جو صلاحیت درکار ہے وہ آپ میں موجود بھی ہے یا نہیں! پھر اُن صلاحیتوں کو نکھارنا بھی ضروری ہے۔ مچھلی کی جگہ پانی میں اور پرندے کی فضا میں ہوتی ہے، اگر آپ نے اپنی صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگایا تو پھر کامیابی کو بھول جائیں۔


*چوتھی بات:*


بعض اوقات انسان میں ایک سے زائد شعبوں میں کام کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، مثلاً ایک شخص تدریس (ٹیچنگ) بھی کرسکتا ہے اور کتابیں بھی لکھ سکتا ہے یا کاروبار بھی کرسکتا ہے اور ملازمت بھی، ایسے میں اپنے شوق کو تلاش کرے کہ اِن میں سے کونسا کام ہے جسے کرتے ہوئے وہ تھکاوٹ، اُکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا، جس میں اُسے وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا، اب اُس کام کو اختیار کرے جسے وہ شوق سے کرسکے۔


*پانچویں بات:*


جو منزل آپ نے اپنے لئے پسند کی ہے، یہ بھی دیکھ لیجئے کہ اُس شعبے میں کام کرنے کے مواقع بھی ہیں یا نہیں! مثال کے طور پر آپ نے سوچا کہ میں اردو سے فارسی ترجمہ کرنے کے شعبہ میں کام کروں تو ہمارے ملک میں فارسی جاننے والے ہیں کتنے؟ پھر اُن میں ایسے کتنے نکلیں گے جو کسی اردو تحریر کا فارسی میں ترجمہ کروانا چاہیں گے! وہ بھی آپ سے!


*چھٹی بات:*


اگر آپ کے والدین نے پہلے سے کچھ سوچ رکھا ہے کہ اِس کو ڈاکٹر یا انجینئر بنائیں گے تو غور کرلیں، اگر آپ کا رجحان اُن کی خواہش پوری کرسکتا ہے تو ضرور کیجئے لیکن اگر انہوں نے ڈاکٹر بنانے کی ٹھانی ہوئی ہے اور آپ کو ڈاکٹری کی کچھ سمجھ نہیں پڑتی بلکہ آپ کا رجحان آرکیٹیکٹ (تعمیراتی انجئینر) بننے کی طرف ہے تو ہمت کرکے ادب سے اُن کو منالیجئے اور اُن کی دعاؤں کے سائے میں منزل تلاش کیجئے۔


*ساتویں بات:*


جو شعبہ آپ نے اختیار کرنے کا سوچا ہے اُس شعبے میں کام کرنے والے پرانے اور سمجھدار لوگوں سے مشورہ کرنا بہت مفید ہے، اِس طرح بہت سے پوشیدہ پہلو آپ کے سامنے آجائیں گے۔


*آٹھویں بات:*


مضبوط ارادے اور یک سُوئی رکھنے والا منزل پر پہنچ کر ہی دَم لیتا ہے، اگر آپ نے محنت وکوشش سے جی چرایا، جس شعبے میں کام کرنا ہے اُس کے مطابق اپنی صلاحیتیں نہ نکھاریں، سُستی وکاہلی کا شکار رہے یا بار بار یُوٹرن لیتے رہے کہ آج کچھ سوچا تو کل کچھ اور، پرسوں کچھ اور، تو آپ ایک دائرے میں ہی گھومتے رہیں گے۔


*آخری اور اہم بات:*


`یک کَل وہ ہے جو آج کے بعد آئے گا، اُس کے لئے تو سب سوچتے ہیں اور ایک کَل وہ ہے جو اِس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد آئے گا جسے آخرت کہتے ہیں۔ اُس کو بہتر بنانے کے لئے بھی سوچئے۔ 


اللہ تعالیٰ ہمارے دونوں کَل بہتر کردے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ


خود بھی ضرور عمل کیجئے اور زیادہ سے زیادہ شیئر بھی کیجئے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے