کون سے علماء کا مقام بنی اسرائیل کے انبیاء جیسا ہے اور توحید کی اقسام کون سی ہیں ؟؟؟

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

🌹 بفیضان نظر آقا کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم 🌹

السلامُ علیکم محترم سالکین حق 💜🌹


سرکارِ دوعالم احمد مجتبیٰ حضرت سیدنا سید السادات خاتم النبیین حضور نبی ٔپاک، صاحبِ تاج لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے کہ 


 " عُلَمَاءُ أُمَّتي كَأَنْبِياءِ بَنِي إسْرَائِيلَ "

میری امت کے علماء ( علماء ربانی ) بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں


📚 تفسیر روح البیان جلد 6 ص 818

 

یعنی جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام صدق طلب اور توجہ الی اللہ سے دنیا اور آخرت میں سرداری سے ہمکنار ہوئے جیسا تصرفِ کائنات بنی اسرائیل انبیاء کرام علیہم السلام کو نصیب ہوا ویسے ہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سرکارِ دوعالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے صدقے یہ مرتبہ و مقام سرکارِ دوعالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے علمائے امت کو عنایت فرمایا اور یہ توحید حقیقت کا مقام ہے 


توحید کے تین مراتب ہے 


1) توحید بدایت ( توحید کا شروعاتی مقام ) جس کو یہ نصیب ہوتا ہے اس کو پرواز عالمِ اجسام ( ناسوت ) تک محدود ہوتی ہے 


2) توحید اہل وسط ( یہ توحید کا درمیانہ مقام ہے ) جس کو یہ نصیب ہوتا ہے اس کی پرواز عالمِ ملکوت و عالمِ جبروت تک محدود ہوتی ہے 


3) توحید حقیقت ( یہ توحید کا منزل و مقصود اور انتہائی مقام ہے ) اس کی پرواز لامکاں لاھوت ، یاھوت ، ہاھوت میں ہوتی ہے جس کا یہ حاصل ہے اس کو ہی اصل حقیقت حاصل ہے یہ صاحبِ عشاق کا مقام ہے 


حضرت کمال خجندی رحمتہ اللہ علیہ نے جب سیدنا جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی حقیقت کو توحید حقیقت میں محو پرواز پایا تو فرمایا 


طاس بازی بدیدم از بغداد 

چون جنید از سو کش اگاہی 


میں نے بغداد میں ایک سیدنا جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ جیسا شہباز لاھوتی دیکھا ہے 


رفت در جبہ وقت بازے گفت 

لیس فی جبتی سوئے اللہی 


جو جبہ پہن کر لوگوں سے محو وعظ و نصیحت کر رہا تھا اور انہیں یہ سمجھا رہا تھا کہ میرے اس جبے میں ہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے ( یعنی میری ہستی تو کب کی فنا ہو چکی ہے میں تو سرکارِ دو عالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی حدیث مبارکہ کی مثل اس مقام توحید حقیقت کو جا پہنچا ہوں جہاں اللہ بندے کے ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے زبان بن جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے پاؤں بن جاتا ہے جس سے وہ چلتا ہے ) 


توحیدِ حقیقت کا راز جب سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پر عیاں ہوا تو فرمایا 


الف احد جد دتی دکھالی از خود ہویا فانی ہُو

قرب وصال مقام نہ منزل نہ اتھ جسم نہ جانی ہُو

نہ اتھ عشق محبت کائی نہ اتھ کون مکانی ہُو

عینوں عین تھیوسے باہُو سر وحدت سبحانی ہُو


جب سے مجھے مقام توحید میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا قربِ خاص نصیب ہوا ہے میرا اپنا وجود ہی فنا ہو گیا ہے اور اللہ کی ذات ہی کا بسیرا ہے وہی میرے وجود میں بقا ہی بقا ہے 


میرے ایسے قرب خاص میں ہوں کہ یہاں میرا وجود ہی مٹ گیا ہے لہذا اس میں نہ قرب ہے نہ وصال ہے نہ یہاں کوئی مقام ہے نہ یہاں کوئی منزل ہے ادھر صرف اور صرف ذات اقدس کے دیرے ہیں وہی بقا ہے باقی سب کچھ مٹ چکا ہے 


نہ یہاں عشق و محبت ہے نہ کوئی مکان و منزل ہے یہاں صرف اور اپنی ذات کی فنائیت ہے 


اب ہم میں کوئی فرق باقی ہی نہیں رہا اور ہم اپنے یار میں سما کر مثل یار ہو گئے ہیں اب جو ہمیں پائے گا وہ ہم میں بھی یار کو ہی پائے گا ہم امیر خسرو کے اشعار کے ماند ہوگئے ہیں 


من تو شُدم تو من شُدی، من تن شُدم تو جاں شُدی

تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری


میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے۔ پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے


اسی موقع پر جب واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ پہنچے تو آپ فرمایا 


میں طاہر لاھوتی میں جوہر ملکوتی 

ناسوت نے کب مجھ کو اِس حال میں پہچانا 


میں توحید حقیقت میں ایک پاک پرندے شہباز کے مثل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لامکاں کا ہر لمحہ طواف کرتا رہتا ہوں میری روح قدسی بیدار ہو کر جواں ہوگئی ہے اس کو اپنی حقیقت سمجھ آچکی ہے اور اسی عشق کی بدولت میں اب لاھوت ، یاھوت ، ہاھوت میں ایک پاک پرندے مثل شہباز بلند پرواز پر فائز ہوں 

اور میں توحید وسط مالکوت ، جبروت میں ایک جوہر کی مثل قابلِ قدر ہوں جن کی پرواز توحید وسط تک ہے وہ مجھے ایک جوہر کی مثل قیمتی سمجھتے ہیں جس میں انسان اور فرشتے دونوں ہی شامل ہیں 

مگر افسوس عالم اجسام اس ناسوت میں رہنے والے لوگ میری حقیقت سے نابلد ہیں کاش یہ اس حقیقت کو سمجھ سکتے تاکہ میرے قرب سے یہ بھی اپنے اندر چھپے اس راز کو پہچان کر شہباز کی مثل لامکاں کے پاک پرندے بن جاتے


میں نعرۂ مستانہ، میں شوخئ رِندانہ

میں تشنہ کہاں جاؤں، پی کر بھی کہاں جانا


جب سے میں توحید حقیقت میں پہنچا ہوں میں نعرۂ مستانہ بن چکا ہوں لوگ میری باتوں کی حقیقت کو سمجھ نہیں رہے مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں اور اگر کوئی میری باتوں میں چھپی حقیقت کے رازوں سے اپنی روح کو سیراب کرے گا تو وہ بھی طاہر لاھوتی اللہ کے لامکاں کا پاک پرندہ بن جائے گا اور میرا انداز بھی بہت بے حجاب اور آزادنہ ہوگیا ہے کیونکہ میرے اوپر حال کی اعلیٰ کیفیات کھل چکی ہیں لہذا اب میں یار کے رازوں کو دوسروں پر آشکار کرنا چاہتا ہوں 

میں اس مقام پر ہوں جہاں مجھے ذات تک رسائی حاصل ہے مگر یہاں پر لوٹنے کا مقام بھی نہیں ہے یہاں اس توحید حقیقت کے جام نہ پیوں گا تو تشنہ ہو کر کہاں جاؤں گا اور اگر پی بھی لوں گا تو اس مقام حقیقت کے علاؤہ اور مجھے کہاں جانا ہے یہی مقام قرب و وصال و مقصود و مطلوب ہے اور یہاں سے جو پئے گا اس کی تشنگی لامتناہی ہوجائے گی وہ مزید تشنہ ہوجائے گا اس مقام پر مہہ توحید کے جام پلانے والے سرکارِ دو عالم احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہی ہیں اور یہاں کے اصل ساقی وہی ہیں اب میں ان تک پہنچ چکا ہوں اور اس حقیقت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرب سے مزید تشنہ ہوں پی بھی لوں تو کہاں جاؤں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بنا اب کوئی قرار ہی نہیں ہے 


اگر آپ بھی توحید حقیقت تک صاحبِ توحید حقیقت کے ہمراہ سفر کر کے طاہر لاھوتی اور جوہر ملکوتی بننے کی خواہش رکھتے ہیں تو ہم سے رابطہ فرمائیں ان شاءاللہ اگر آپ کی طلب میں صدق ہوا تو منزل دو قدم ہے 

اللہ سبحانہ وتعالیٰ جو پڑھا لکھا اس کی حقیقت سے ہمیں مستفید فرمائیں کیونکہ مطلب ظاہری کی جہاں انتہا ہوتی وہاں مطلب باطن کی ابتداء ہوتی ہے ہم باطنی مطالب تک رسائی عنایت فرمائیں اور ہمیں عمل کی توفیق عنایت فرمائیں آمین ثم آمین یارب العالمین 🌹

جزاکِ اللہ خیرا کثیرا ❤️

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے