ہسپتال میں سینکڑوں اندھے موجود تھے اور تقریباً ہر وارڈ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔شہر میں یکدم اندھے پن کی وبا پھیلنے کے بعد بیمار افراد کو اس ہسپتال میں گویا نظر بند کر دیا گیا تھا، کیونکہ ریاست کے پاس اس نئی افتاد کا کوئی علاج نہیں تھا۔ہسپتال کے گرد فوجیوں کا پہرہ تھا جن کی ذمہ داری مخصوص فاصلے سے خوراک کی ترسیل اور نزدیک آنے والے اندھوں کو گولی مارنا تھا۔
دائیں طرف کا پہلا وارڈ وہ وارڈ تھا جہاں سب سے پہلے آنے والے بدقسمت اندھے موجود تھے۔اس وارڈ کا انچارج ایک ڈاکٹر تھا جو اپنے گھر میں بھلا چنگا کام کر رہا تھا کہ اس وبا کا شکار ہوکر اپنی بینائی کھو بیٹھا۔
اس وقت ہسپتال میں وہ لوگ موجود تھے جن کا ظاہر باطن ایک تھا کیونکہ انہوں نے وہ مصنوعی خول اتار پھینکا تھا جو وہ عام معاشرے میں روا رکھتے تھے یا دوسرے لفظوں میں ان کی آنکھیں اب بیرونی نظارہ کرنے کے بجائے ان کے اندر جھانکنے لگی تھیں اور چن چن کر اندر کا میل کچیل باہر لا رہی تھیں۔یہاں وہ تصنع سے بھرپور تہذیب کا پردہ چاک کر چکے تھے اور ہر فرد اپنی اندر کی غلاظت سامنے لے آیا تھا۔اندھے پن نے ان کی خود غرضی، نرم لفظوں میں ملفوف سنگدلی اور نفسانی خواہشات کو آشکارا کر دیا تھا۔ہر اندھے کی یہی خواہش تھی کہ وہ سب سے اچھا کھانا کھائے، پانی پیے اور وارڈ کے کسی کونے میں آنتوں کی غلاظت انڈیل دے۔
یہ امر دلچسپ ہے کہ سینکڑوں اندھوں کے بیچ ایک عورت ایسی تھی جس کی آنکھیں ابھی سلامت تھیں۔یہ وارڈ انچارج ڈاکٹر کی بیوی تھی۔اس نے ڈاکٹر کی محبت میں خود کو اندھا ظاہر کیا تھا اور یوں اس ہسپتال پہنچ گئی۔اس وفادار عورت کی آنکھیں واحد آنکھیں تھیں جس نے انسانوں کو ان کے اصل روپ میں دیکھا۔اس نے ان اندھے غنڈوں کو بھی دیکھا جو مصیبت کے ان ایام میں بھی غنڈہ گردی سے باز نہ آئے۔وہ ہسپتال میں موجود لڑکیوں کو ریپ کیلئے لے جاتے اور ساری خوراک قبضے میں لیکر اس پر ٹیکس لگا دیتے۔بینائی رکھنے والی عورت اگرچہ رویوں کی اصلاح کرنے پر قادر نہ تھی لیکن اتنا ضرور کرتی کہ چند اندھوں کو راستہ دکھا دیتی،انہیں باتھ روم لے جاتی اور ڈاکٹر کا خیال رکھتی۔وہ سوچتی تھی کہ آیا وہ خوش قسمت ہے جو ابھی اندھے پن کا شکار نہیں ہوئی یا بدقسمت جو اس بدترین حالت کو ملاحظہ کر رہی ہے۔بہر کیف ایک خوف اب بھی اس کے دل میں موجود تھا کہ اس کی بینائی بھی کسی دن یکدم چلی جائیگی اور وہ سفید تاریکی میں ہاتھ جھلاتے رہ جائیگی۔ہسپتال میں ڈاکٹر کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کی آنکھیں سلامت ہیں۔وہ سمجھتے تھے کہ ڈاکٹر کی بیوی کا دل صاف ہے اور وہ دل کی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔وہ راستوں کے پیچ و خم دیکھ لیتی ہے اور اندھے پن سے پیدا ہونے والی ہر مشکل حل کر دیتی ہے۔
پھر ایک دن جب وہ نیند سے اٹھی تو اسے کچھ نظر نہیں آیا۔اس کے دماغ میں پہلا خیال یہی آیا کہ وہ بھی وبا کا شکار ہوگئی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنی بینائی کھو بیٹھی ہے۔وہ بے اختیار چلائی۔
"میں نہیں دیکھ سکتی"
وارڈ میں موجود چند اندھے ہنسنے لگے۔شاید وہ سوچ رہے تھے کہ یہاں تو سب اندھے ہیں اس لئے ڈاکٹر کی بیوی کی یہ بات محض بے تکی اور فضول ہے۔ان سب کے بیچ ڈاکٹر ہی وہ شخص تھا جو یہ سن کر کانپ گیا تھا۔ وہ اس نقصان سے پیدا ہونے والی تباہ کاریاں جانتا تھا۔خوراک کی تقسیم، باتھ رومز تک جانے کا راستہ، ہسپتال کی بھول بھلیوں میں ہونے والے کھیل۔کئی سارے معاملات ایسے تھے جو ان دو آنکھوں سے جڑے تھے۔سب سے پہلا جملہ جو اس کے منہ سے برآمد ہوا۔وہ یہ تھا۔
"اب ہمارا کیا ہوگا؟ "
ڈاکٹر کی بیوی غلط تھی۔وہ دیکھنے پر قادر تھی لیکن نیند سے اٹھنے کے بعد اور ہر دن بینائی جانے کے خوف میں گزارنے کی وجہ سے چند لمحے اسے ایسا محسوس ہوا تھا جیسے وہ نہیں دیکھ سکتی۔لیکن ڈاکٹر کا یہ جملہ اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا۔
"اب ہمارا کیا ہوگا؟"
وہ سوچ رہی تھی کہ اصولاً یا اس محبت کی خاطر جو اندھے پن کا شکار ہونے بعد ڈاکٹر اس سے روا رکھنے لگا تھا، ڈاکٹر کو اس کی بینائی ضائع ہونے پر اس سے تعزیت کرنی چاہئے تھی لیکن اسے اپنی فکر کھائے جا رہی ہے۔اس نے ہونٹ بھینچ کر وارڈ میں موجود بے سدھ پڑے گندے اور غلیظ اندھوں کو دیکھا اور دھیرے سے بڑبڑائی۔
"یہ سچ ہے میرے محبوب شوہر! اب ہم سب اندھے ہیں"
فقط ڈاکٹر، اس کا محبوب شوہر ہی وہ شخص تھا جس کا باطن ابھی تک مخفی رہا تھا اور جو اس کے جھوٹ پر مبنی جملے کے بعد آنے والی گھڑیوں یا دنوں میں آشکارا ہوجائیگا۔
((اندھے لوگ ناول کے پلاٹ پر ایک افسانہ))
0 تبصرے