*╭┄┅┅┅─══❁﷽❁══─┅┅┅•┄╮*
*🤝اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ*
پہلے رشتہ کرتے وقت لوگ دیکھا کرتے تھے کہ لڑکا دین دار، متقی یا پرہیزگار ہے کہ نہیں؟
دوست کیسے ہیں، کس طرح کے لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے؟
حلال کماتا ہے یا حرام کمانے کا عادی ہے؟
بزرگوں کی قدر بھی کرتا ہے یا نہیں؟
آج کل لوگ دولت دیکھ کر شادی کرتے ہیں، گھر بڑا، گاڑی، جائیداد، بینک بیلنس وغیرہ وغیرہ
چاہے حرام کماتا ہو، بری عادات کا مالک ہو
لڑکی کا انتخاب کرتے وقت خوبصورتی کو ترجیح دیتے ہیں
نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ تین چیزوں کی بنیاد پر رشتہ کرتے ہیں
دولت، حسن و جمال اور دین داری لیکن اے مسلمانوں تم دین داری کی بنیاد پر رشتہ کیا کرو
میں پھر سچ کہتا ہوں کہ آج کل شادیاں فقط مفادات کا ایک معاہدہ ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ایک ایسا معاہدہ جس میں دونوں فریقین اپنا اپنا مفاد دیکھتے ہیں
لالچ اور مفادات پر بنے رشتوں کا انجام بھی پھر وہی ہوتا ہے جو آج کل ہو رہا ہے.
دین داری کی تو بات ہی چھوڑ دیں یہاں ایک مولوی کو بیٹی کون دینا چاہتا ہے؟
پہلے تو کہہ دیتے ہیں کہ دس یا بارہ ہزار کمانے والا امام مسجد، سر پر ٹوپی، چہرے پر داڑھی وغیرہ وغیرہ.
یہاں تو دین دار کو تنگ نظر اور چھوٹی سوچ کا مالک کہا جاتا ہے۔
اس طرح کے معاشرے میں عالم دین بننے میں لوگ دلچسپی کیسے لیں گے؟
یہاں بات فیشن کی ہوتی ہے، ماڈرنزم کی ہوتی ہے، سٹیٹس کی ہوتی ہے، دولت، شہرت ،مرتبہ، عہدہ، گاڑی، جائیداد کی ہوتی ہے تو یہ صرف معاہدے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ہیں..
*ہم آج کل معاہدہ کرتے ہیں یا پھر تجارت کرتے ہیں جبکہ ایک مسلمان صرف اللہ کی رضا کیلئے اور نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کیلئے شادی کرتا ہے۔*
*ہم سنت تو ادا کرتے ہیں مگر اس سنت کے کوائف کو نظر انداز کر دیتے ہیں.*
*سماجی رویوں کا اس قدر فقدان ہے کہ معاشرہ لالچ اور مفاد پرستی کی بنیاد پر پروان چڑھ رہا ہے۔
۔ ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
0 تبصرے