بزدل کئی بار مرتا ہے، فاتح صرف ایک بار.....!!
کیاہم ٹھیک سے زندہ بھی ہیں؟ کیونکہ پوری طرح سے وہی مرے گا جو پوری طرح سے زندہ ہو گا۔ ہم میں سے اکثریت پوری طرح سے کبھی زندہ ہی نہیں ہوتی۔ ہم کسی خواب، خواہش یا دکھ کے ہاتھوں آدھے مرے ہوئے ہی ہوتے ہیں۔ہمارے دل کا کوئی نہ کوئی حصہ کسی نہ کسی خوف کے زیر اثر رہتا ہی ہے۔وہ حصہ مردہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
ہم کبھی پوری طرح سے خوش نہیں ہوتے۔ خوشی ایک طرف، پوری طرح مطمئن نہیں ہوتے۔ ہمارا اطمینان یا چیزوں میں ہے یا پھر ہمارے پلانز کی کامیابیوں میں۔ ہر چھوٹا بڑاجھٹکا ہمیں ”مردہ“کر دیتا ہے۔کئی لوگوں کا موڈ صرف اس لیے سارا دن آف رہتا ہے کہ انہیں ان کی پسند کا کھانا نہیں ملا۔کچھ لوگوں نے خود کو اتنا نازک مزاج بنا لیا ہے کہ کوئی ان کے سامنے بلند آواز میں بات کرے تو وہ برہم ہو جاتے ہیں۔ ہم نے مسائل کے ساتھ ”بار بار مرنے“ کی عادت اپنا لی ہے۔ دکھ ملا تو مر گئے، ناکام ہوئے تو وفات پا گئے۔ دھوکا ملا تو دل مار لیا۔ خواب ٹوٹ گیا تو خود کو توڑ لیا۔
ہم خود کو مارنے، توڑنے، کچر مچر کرنے کو بہت پسند کرتے ہیں۔ یہی کام دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ دوستی توڑ لی، تعلق ترک کر دیا، چند ناکامیوں پر خواب کی قبر کھود لی۔ مایوسی پر اپنے لیے موت کا سوچنا شروع کر دیا۔
تو ایسے۔۔۔۔
*ہم پر کئی بار موت طاری ہوتی ہے۔ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہمت ہوتے جا رہے ہیں۔ روز بہ روز ہماری”بزدلی“بڑھتی جا رہی ہے۔بالآخر ایک دن ہمارے خاکی جسم کو بھی موت آجائے گی۔ لیکن اس سے پہلے ہمارا قلب، ہماری روح، سارے کے سارے ”ہم“کئی بار”موت“ کا مزا چکھ چکے ہوں گے...*
0 تبصرے