*کیا بخار کی وجہ سے انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟*




*•••الجواب بعون اللہ تعالیٰ•••*

تمام ہی امراض صبر کرنے والے کے لئےدرجات کی بلندی اور گناہوں کی معافی کا سبب ہیں لیکن بخار کو اس معاملے میں خصوصیت حاصل ہے یہاں تک کہ حضرت سیدنا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بخار کے حصول کی دعا فرمائی۔(تفصیل کے لئے فیضانِ سنت، ص817 ملاحظہ فرمائیے)

 دردِسر اوربخار وہ مبارک امراض ہیں جو انبیا عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ہوتے تھے۔

(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص118)

حضرت سیدنا امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے بخار سے متعلق ایک کتاب تصنیف فرمائی جس کانام”کَشۡفُ الۡغُمَّہۡ فِیۡ اَخۡبَارِ الۡحُمّٰی“ ہے۔ (مراٰۃالمناجیح،ج 2، ص413 ملخصاً)

بطورِ نمونہ بخارکی فضیلت پر مشتمل چند باتیں پیشِ خدمت ہیں:


گناہوں کی معافی:فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ہے: ایک شخص کو دردِ سر اور بخار ہوتا ہے اور اس کےگناہ اُحُد پہاڑ جتنے ہوتے ہیں، پھر جب یہ اس سے جدا ہوتے ہیں تو اس کے گناہوں میں سے ایک ذرہ بھی باقی نہیں ہوتا۔

(شعب الایمان،ج7، ص176، حدیث: 9903)


حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے:جو ایک رات بخار میں مبتلا ہواور اس پر صَبْر کرے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ سے راضی رہے تو اپنے گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اُس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جناتھا۔(شُعَبُ الْاِیمان،ج7، ص167، حدیث: 9868)


حکیم الامّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: اور بیماریاں ایک یا دوعضو کو ہوتی ہیں مگر بخار سر سے پاؤں تک ہر رگ میں اثرکرتا ہے،لہذا یہ سارے جسم کی خطاؤں اور گناہوں کو معاف کرائے گا۔

(مراٰۃ المناجیح،ج2، ص413)


بخار تیرے لئے ہے گناہ کا کفارہ


کرے گا صبر تو جنّت کا ہوگا نظارہ


سرکار کو دو مَردوں کے برابر بخار آتا تھا:حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا ، جب میں نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو چھوا تو عرض کی: یَارَسُولَ اللہ! آپ کو تو بہت تیز بخار ہے! فرمایا: ہاں! مجھے تمہارے دومَردوں کے برابر بخار ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی: کیایہ اِس لئے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے دُگنا ثواب ہوتاہے؟ ارشاد فرمایا:ہاں۔ 

( مسلم،ص 1066،حدیث:6559 ) واللہ ورسولہ اعلم باالصواب

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے