۔ 👈 *جلد نکاح کی ترغیب* 👉

 *╭┄┅┅┅─══❁﷽❁══─┅┅┅•┄╮*

     *🤝​اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎​*  

 ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖


والدین نے جس بیٹی کو ہوسٹل پڑھنے بھیجا تھا اس کی خیرخبر لینے کے لیے فون کیا تو بیٹی نے بتایا کہ میں امتحان کی تیاری میں مصروف ہوں آج کل دن رات دھواں دار قسم کی پڑھائی چل رہی ہے

 ۔۔حقیقت میں وہ بیٹی اسلام آباد کے ہوٹل میں یونیورسٹی کے کسی لڑکے کے ساتھ بیٹھ کے ڈنر انجوائے کرتے ہوئے اپنی عزت کا جنازہ بھی نکال رہی ہوتی ہے ۔۔

کچھ دن بعد لڑکی پوچھتی ہے ہم شادی کب کریں گے ؟؟؟


پاگل ہوگئی ہے کیا. میں اور تجھ سےشادی ❓


تم نے تو قسم کھائی تھی تم مجھ سے شادی کروگے.


کھائی تھی. مگر جب دیکھا کہ جو لڑکی میرے ساتھ مری آ سکتی ہے. اپنی عصمت لٹا سکتی ہے. وہ اور کتنی حد تک گر سکتی ہے.۔۔بھاڑ میں گئی قسم ۔۔۔لڑکی دلبرداشتہ ہوکر زندہ لاش کی طرح بن جاتی ہے اور پھر جب لڑکی کی کسی اور کے ساتھ شادی ہوتی ہے اور شوہر کو اس کے کارناموں کا علم ہوجائے تو یا تو وہ فورأ طلاق دے دیتا ہے. ۔۔۔اور لڑکی اتنی بے بس ہوجاتی ہے کہ زمانے کو بتا بھی نہیں سکتی کہ مجھے طلاق میرے کن کرتوتوں کی وجہ سے ہوئی 


دوسری طرف کچھ شوہر بظاہر معاف تو کردیتے ہیں لیکن بھولتے نہیں ہیں انکے دل میں یہ بات سوئی کی طرح چبھ جاتی ہے ۔۔۔بات بات پر بیوی کوطعنے دینا اُس کا مشغلہ اور مقصد بن جاتا ہے.بیوی کو زہر بھری نگاہوں سے دیکھنا اور بیوی پر ہاتھ اٹھانا. اُس کو کسی نہ کسی بہانے سے اذیت دینا اُس کا شوق بن جاتا ہے ..


اس طرح ایک نادانی کی وجہ سے عورت کی زندگی جہنم سے بھی بدتر ہوجاتی ہے ۔۔ اگر شادی کے بعد کی زندگی کو خوشگوار بنانا چاہتی ہو تو شادی سے پہلے کسی نامحرم کے ساتھ کسی قسم کے ذہنی یا جسمانی تعلقات نہ رکھو..۔اپنے ماں باپ کی لاج کے ساتھ خدا کا خوف بھی رکھو ۔۔نکاح کرکے حلال رشتے سے اپنی خواہش پوری کرو ۔۔بدکاریاں کر کے اعمال کالے نہ کرو ۔۔۔🥬🚲🥬

ایک طرف اس میں سب سے بڑی غلطی والدین کی بھی ہوتی ہے جو بیٹی کے جوان ہونے پر مناسب وقت میں اُس کی شادی تو نہیں کرواتے اور پھر جب بیٹی کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈھنگ کے رشتے نہ ملے یا پھر نکاح میں بےحد تا خیر کی وجہ سے بچی کے کالے کرتوتوں کے سبب اسے طلاق ہو جائے تو پھر رونا روتے ہیں ۔۔۔

یہ کیا بات ہوئی کہ پڑھائی پوری کرنے کے نام پر جوان بیٹی کو نکاح سے محروم کیا ہوا ہے ۔ ذاتی گھر بنانے اچھی جاب ملنے اور بزنس کر کے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے نام پر لڑکوں کی شادیوں میں بھی تاخیر کی جاتی ہے ۔اگر یہ لڑکے زندگی کے 35 سال اپنا کیرئیر اور گھر بنانے میں لگا دیتے ہیں ۔تو نکاح کا اصل وقت تو گزر چکا ہوتا ہے جس وقت خواہشات عروج پر ہوتی ہیں ۔۔ایسی صورت میں بچے اپنی خواہشات کو غلط طریقوں سے پورا کرتے ہیں ۔جنسی خواہشات تو بچوں میں بلوغت کے وقت سے ہی شروع ہو جاتی ہیں ۔۔۔یہ وہ وقت ہے جہاں انٹرنیٹ کے مضر اثرات نے ہر گھر کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے تھوڑی دیر کے لیے کسی وجہ سے انٹرنیٹ کی فراہمی بند ہو جائے تو 8 سال کا بچہ بھی اس طرح پریشان نظر آتا ہے جیسے انٹرنیٹ نہیں آکسیجن بند ہو گئی ہو 🥬🚲🥬

۔۔ایسے میں آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ بچے اپنی خواہشات کو اس وقت تک کنٹرول کر سکیں گے جب تک کہ ان کا نکاح نہیں ہو جاتا ۔۔۔والدین بیوقوف بننا چھوڑ دیں گے یہ کون سا طریقہ ہے بیٹیوں کو اکیلے کالج یا ہوسٹل بھیج رہے ہیں یا اکیلے شوقیہ جاب پر بھیج رہے ہیں اور بیٹی کے ہاتھ میں سمارٹ فون دے کر اُس سے یہ اُمید بھی رکھتے ہیں کہ وہ کسی غلط راہ پر نہیں چل سکتی ۔۔۔

کیا یہ وقت ہے بیٹی کو کسی سرپرست کے بغیر اکیلے ہاسٹل میں چھوڑنے کا.۔۔کوئی بے خبر نہیں ہے کہ ہوسٹل یونیورسٹیز میں تنہا لڑکیوں کے ساتھ کس طرح کے معاملات ہوتے ہیں ۔۔یہ ڈرامائی باتیں نہیں ہیں بہت سے واقعات اپنے اردگرد رونما ہوتے ہوئے دیکھے ہیں ۔۔




 بہت سے گھرانوں میں بچوں کی مضبوط دینی تربیت کی جاتی ہے .۔ہر گھر کے بچے بدکردار نہیں ہوتے ۔۔۔🥬🚲🥬🚲🥬


مگر ایسے نازک حالات میں جہاں معاشرے میں ہر طرف بے حیائی پھیلی ہوئی ہے ایسے میں آپ بچوں کو بے لگام چھوڑ کر یہ توقع رکھیں کہ بچے نیک بنے رہیں گے اور نکاح کے بغیر اپنی خواہشات کو کنٹرول کرتے رہیں گے ۔۔۔یہ تو سراسر غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے ۔۔۔

اپنی بیٹی بیٹیوں کی جلد سے جلد شادی کا انتظام کریں ۔۔


ہمارے پیارے مذہب اسلام میں جلد نکاح کی ترغیب دینے میں بہت سی حکمتیں چھپی ہیں ۔۔سب سے بڑی حکمت جو نمایاں ہے وہ یہی ہے کہ انسان بدکاری سے محفوظ رہتا ہے _ ️

۔ ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے