شيخ عبدالرحمٰن بن سعدیؒ کہتے ہیں :
میں کتاب و سنت کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جن اذکار کے پڑھنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور وصیت کی گئی ہے وہ چھے اذکار ہیں
*1: رسول اللّٰہﷺ پر درود بھیجنا*
دن میں اس کا زیادہ اہتمام کرتے رہیں حتٰی کہ دن کے اختتام پر آپ بہت زیادہ دورد پڑھنے والے ہوں
(سنن نسائی: کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل (باب: نبیﷺ پرسلام پڑھنے کی فضیلت)
حکم : حسن 1284
سیدنا ابو طلحہؓ سے منقول ہے کہ رسول اللّٰہﷺ ایک دن تشریف لائے جب کہ آپ ﷺ کے چہرۂ انور پر سرور جھلک رہا تھا ہم نے کہا ہم آپ کے چہرۂ اقدس پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا اے محمد! تحقیق آپ کا رب تعالیٰ فرماتا ہے کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ جو شخص بھی آپ پر درود پڑھے گا میں اس پر دس دفعہ رحمت کروں گا؟
اور جو بھی آپ پر سلام کہے گا میں اس پر دس بار سلام نازل کروں گا
*2: کثرت سے استغفار کرنا*
اپنے فارغ اوقات میں اللّٰہ کی توفیق سے ( *استغفر اللّٰہ* ) کا ورد کرتے رہیں
(سیدنا ابو موسیٰؓ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺ آئے ہم بیٹھے ہوئے تھےآپﷺ نے فرمایا میں نے جب بھی صبح کی اللّٰہ تعالیٰ سے اس صبح سو مرتبہ بخشش طلب کی
السلسلۃ الصحیحۃ رقم 1600المعجم الاوسط للطبرانی رقم :3879)
*3: يا ذا الجلال والإكرام پڑھنا*
کثرت سے یہ پڑھنا چاہیئے یہ ذکر بولی بسری سنت بنتا جا رہا ہے
حالانکہ آپ ﷺ نے اس کی وصیت اور اس کے متعلق نصیحت فرمائی ہے
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا
ألظّوا بـيا ذا الجلال والإكرام
الراوي : أنس من مالك
صححه الالباني من صحيح الترمذي
رقم الحديث : 3525
جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں
(باب: قول اے زندہ قائم رکھنے والے اور لازم پکڑو تم یا *ذوالجلال والاکرام* کو)
حکم : صحیح 3525
سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
يَا *ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ* کو لازم پکڑو
(یعنی اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہاکرو)
ألظّوا مطلب کثرت سے پڑھو اسے لازم پکڑو
رسول اللّٰہﷺ نے جو اس ذکر کے پڑھنے کا کہا ہے اس میں ایک عظیم راز پوشیدہ ہے
يا *ذا الجلال* کے معنی ہیں
بہت زیادہ بڑے جلال کامل بزرگی والی ہستی
*والإكرام* کے معنی ہیں
اور اپنے اولیا کے لیے اکرام وتکریم کی مالک ہستی
اور اگر آپ غور و فکر فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ آپ نے اس بلند و برتر ہستی کی تعریف بھی کی ہے اور اس سے مانگ بھی رہے ہیں
سوچیئے اگر دن میں آپ یہ سینکڑوں دفعہ پڑھتے ہیں
*ياذا الجلال* ضرور اللّٰہ تعالٰی اس سے راضی ہوگا
اور سینکڑوں دفعہ پڑھیں
*والإكرام*
وہ آپ کی حاجات جانتا ہے وہ ضرور عطا فرمائے گا
*4: لاحول ولا قوة إلا باللّٰہ*
اس کلمہ کی نبی کریم ﷺ نے اپنے بہت سے صحابہ کو تاکید فرمائی ہے اور اسے جنت کا خزانہ قرار دیا ہے
اگر آپ اس ذکر پر مداومت فرمائیں
*لاحول ولا قوة إلا باللّٰہ*
آپ اللّٰہ تعالٰی کا لطف و کرم اور اس کی عنایت و فضل محسوس کریں گے
(قیس بن سعد بن عبادہؓ سے روایت ہے کہ ان کے باپ (سعد بن عبادہؓ) نے انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے حوالے کر دیا وہ کہتے ہیں
میں صلاۃ پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے آپ نے اپنے پیر سے مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتادوں میں نے کہا کیوں نہیں ضرور بتایئے آپ نے فرمایا وہ *لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّٰہ* ہے
سنن ترمذی :3581 )
*5: لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين*
یہ اللّٰہ کے نبی سیدنا يونس عليه السلام کی دعا ہے
*لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين*
یہ ذکر غم و فکر کو بھگانے اور خوشیاں اور مسرت سمیٹنے کا سبب ہے
سیدنا سعدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا
ذوالنون (یونس علیہ السلام ) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی
*لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ*
کیونکہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللّٰہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا
سنن ترمذی :3505 )
*6: سبحان اللّٰہ الحمدللّٰہ لا اله الااللّٰہ اللّٰہ اكبر*
(سنن ابن ماجہ: کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل (باب: اللّٰہ کی تسبیحات پڑھنے کا ثواب)
حکم : صحیح 3809
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ اللّٰہ کی عظمت کا جو ذکر کرتے ہو یعنی تسبیح *سُبۡحَانَ اللّٰہ* تہلیل *لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ* اور تحمید *اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہ* کے الفاظ کہتے ہو وہ عرش کے ارد گرد چکر لگاتے ہیں ان کی ایسی بھنبھناہٹ ہوتی ہے جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ وہ اپنے کہنے والے کا (اللّٰہ کے دربار میں) ذکر کرتے ہیں کیا تم نہیں چاہتے کہ (اللّٰہ کے دربار میں) تمہارا ذکر ہوتا رہے
ان اذکار سے سبق فائدہ اور ثمرات سمیٹنے کے لیے انہیں تدبر تکرار کثرت اور عاجزی کے ساتھ پڑھیئے
جس قدر اللّٰہ کا ذکر کریں گے اسی حساب سے اللّٰہ تعالٰی کی محبت کا حصول ممکن ہوگا
جس قدر دعا میں عاجزی اور انکساری ہوگی اسی لحاظ سے وہ اللّٰہ تعالٰی کے ہاں قبولیت کا درجہ پائے گی
اور کثرت سے دعا اور معوذات اور اذکار کا ورد شیاطین کو بھگانے اور جسم سے حسد کے زہر کو ختم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے
*اس نیکی کے کام میں حصہ ڈالنے کے لیے پوسٹ کو شٸیر کیجیے*
0 تبصرے