▪️ *آب زم زم کو قبر يا کفن پر چھڑکنا کیسا ؟*

ا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک عزیز کی خواہش ہے کہ ان کے انتقال کے بعد حصولِ برکت کے لئے آب زم زم قبر یا کفن پر چھڑک دیا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ حصول برکت کے لئے آپ زم زم کو قبر یا کفن پر چھڑک سکتے ہیں یا نہیں 



*بسم الله الرحمن الرحيم*

الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب 


✍🏻 متبرک چیزوں سے برکت حاصل کرنا شروع سے مسلمانوں میں رائج ہے ، بلکہ خود زم زم کو بھی برکت حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے نیز اس طرح کی روایات بھی ملتی ہیں کہ مسلمانوں حتیٰ کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھی متبرک چیزوں کو اپنے ساتھ قبر میں دفنانے کی وصیت کی ۔ آب زم زم بھی بہت متبرک پانی ہے ، لہذا حصول برکت کے لئے زم زم کو قبر یا کفن پر چھڑک سکتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ 

شعب الایمان کی حدیث پاک ہے : عن عائشة: "أنها كانت تحمل ماء زمزم في القواريروتذكر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل ذلك‘‘ ۔ “زاد فيه غيره عن أبي كريب، وكان يصب على المرضى ويسقيهم“

 یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ آب زم زم کو بوتلوں میں بھر کر لے جاتیں اور فرماتیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی ایسے کیا ہے۔ دیگر روایت میں ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ والہ وسلم آب زم زم مریضوں کے اوپر ڈالتے اور انہیں پلاتے۔


(شعب الایمان،32/6، حدیث:3834 📚)


*والله أعلم عزوجل ورسوله أعلم صل الله تعالى عليه واله وسلم*


*دارالافتاء اہل سنت*

  (دعوتِ اسلامی)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے