حقوق صرف والدین کے ہی کیوں۔۔۔ (ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ)

 




*╭┄┅┅┅─══❁﷽❁══─┅┅┅•┄╮*

     *🤝​اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎​*  

 ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖


اس دن حافظ میرے پاس لیپ ٹاپ کر آیا کہ اس میں ونڈو کرنی ہے، میں نے کہا میرے گھر پکڑا دو میں کسی وقت فارغ ہو کے ونڈو کر دوں گا، وہ میرے گھر کی طرف جاتا ہے مگر راستے میں دو تین محلے کے لڑکے ملتے ہیں، بات چیت کے دوران پتا چلنے پہ انہوں نے حافظ کو کہا کہ لیپ ٹاپ ہمیں دے دو ہم ونڈو کر دیں گے، پھر کئی دن تک لیپ ٹاپ واپس نا ملا، ادھر حافظ پریشان ہوا کہ ابو نے پوچھا تو کیا جواب دوں گا کہ لیپ ٹاپ کہاں ہے، اسی پریشانی میں وہ بے چارا بار بار ان لوگوں سے لیپ ٹاپ کا مطالبہ کرنے لگا،  ان لڑکوں نے حافظ کو شہر کے کنارے کی طرف ریلوے اسٹیشن کے عقب میں موجود آبادی کی طرف بلا لیا، حافظ اپنی کپڑے کی دوکان سے ملازم کو بتا کر جاتا ہے کہ میں لیپ ٹاپ لینے جا رہا ہوں ابو پوچھیں تو بتا دینا کہ ادھر ہی کہیں کام گیا ہے ابھی آ جاتا ہے اور پھر اسکے بعد سے حافظ لاپتہ ہو گیا۔۔۔

جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا گھر والوں کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی، ادھر ادھر سے پوچھا جانے لگا، حافظ کے والد صاحب میرے پاس بھی آئے، میں نے بتایا کہ چند دن قبل آخری بار مجھ سے ملاقات ہوئی تھی میں نے کہا تھا کہ لیپ ٹاپ میرے گھر پہنچا دو اس کے بعد میری اس سے ملاقات نہیں ہوئی اور نا ہی لیپ ٹاپ ہمارے گھر پہنچا۔

بالآخر تھانے میں رپورٹ درج کروائی گئی اور مشکوک افراد کی گرفتاریاں شروع ہوئیں، صبح فجر کے بعد میں نے حافظ کے والد صاحب کو فون کیا تو اس طرف سے انکی روتی ہوئی آواز سنائی دی کہ ظالموں نے ایک لیپ ٹاپ کے پیچھے میرے بیٹے کو ہی شہید کر دیا ہے۔۔۔ ریلوے اسٹیشن کی عقبی کالونی سے حافظ کی لاش برآمد ہوتی ہے جس کو نا تجربہ کار نو عمر قاتلوں نے برآمد ہو جانے کے ڈر سے پہلے تو اسے جلانے کی کوشش کی پھر اس کے کئی ٹکڑے کر کے کسی بوری میں ڈال کے دریا وغیرہ میں پھینکنے کا منصوبہ بنایا، مگر وہ کسی وجہ سے ایسا نا کر سکے اور لاش وہیں اس مکان میں ہی چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

ہمیں اطلاع ملی تو ہم لوگ یعنی میں اور چھوٹا بھائی عمیر اور ہمارے ایک دوست ہم ہسپتال پہنچے جہاں پوسٹ مارٹم والے شعبہ میں اس شہید حافظ کا کئی حصوں میں منقسم لاشہ موجود تھا، کافی لوگ اور بھی وہاں جمع تھے، مگر بہت کم لوگوں میں ہمت تھی کہ کئی دنوں کی پڑی ہوئی اس لاش کو جو کہ کافی حد تک جل بھی چکی تھی اور ٹکڑوں کی صورت میں تھی  دیکھ پاتے، میں نے اور چھوٹے بھائی نے کچھ احباب کی مدد سے ہمت کر کے جس طرح بھی بن پایا اور موقع پہ سمجھ میں آیا اس کو غسل دیا اور اسکو کفن دے کر تابوت میں منتقل کر دیا۔۔۔۔۔۔

یہ خود کا چشم دید اندوہناک اور سچا واقعہ سنانے کا مقصد فقط اتنا ہے کہ ایمان کی دولت کے بعد اللہ کی قسم آپ کی زندگی بھر کی ساری کمائی سے قیمتی آپ کی اولاد ہے، خدا کے لیئے اپنی اولاد سے اتنی گہری دوستی رکھئے کہ وہ کوئی بھی پریشانی والا معاملہ صرف آپ سے سانجھا کرے، نا کہ آپ کے خوف سے باہر لوگوں کو بتائے یا خود ہی اسکا حل سوچنے نکل پڑے اور پھر ساری زندگی کا پچھتاوا آپ کا مقدر بن جائے۔ کاش کے والدین کے حقوق کے ساتھ ساتھ اولاد کے بھی اسلامی حقوق کی تشریح کی جایا کرے۔۔۔ 


۔  ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے