*ســــــوال ؛ گلاب کی پتیوں پر پاؤں رکھنا کیسا ؟*

 ⚘٭ *بســــــــــم اللــــہ الرحـــــمن الرحیــــم* ٭⚘

❣︎

.



*جواب* عموماً لوگ گلاب کی پتیوں پر نہیں چلتے ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ان پر پاؤں نہیں رکھنا چاہیے۔

  دراصل بعض ایسی روایات ہیں جن میں یہ ذکر ہے کہ ہمارے آقا ﷺ کے پسینہ مبارکہ کا قطرہ زمین پر تشریف لایا تو اس سے گلاب کا پھول پیدا ہوا ۔ اکثر محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہ نے ان روایات کو تسلیم نہیں کیا ۔ بلکہ انھیں موضوع (یعنی من گھڑت ) قرار دیا ہے ۔ چونکہ ان روایات میں پیارے آقا ﷺ کے مبارک پسینے سے گلاب کے پھول کے پیدا ہونے کا ذکر کیا ہے ، اس تصور کی وجہ سے لوگ ان پر پاؤں رکھنا پسند نہیں کرتے ۔

بہر حال اگر کسی کے پاؤں میں گلاب کے پھول کی پتیاں آ گئیں اور اس نے ان پر پاؤں رکھ دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اگر کوئی ان پر پاؤں نہیں رکھتا تب بھی اس میں حرج نہیں ۔۔ پھول کی پتیاں نچھاور کرنے کا عرف ہے ۔ علمائے کرام پر بھی یہ پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں ، ظاہر ہے جب پتیاں نچھاور کریں گے تو وہ زمین پر ہی آئیں گی ، جب زمین پر آئیں گی تو لوگوں کے پاؤں بھی ان پر پڑیں گے لہذا ان پر پاؤں رکھنے میں حرج نہیں ۔۔


*_پیشکش_ ؛* 

مجلس المدینہ العلمیہ  

*( دعوت اسلامی )*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے