جب ہم اپنے مسٸلوں کو خود پر سوار کرلیتے ہیں۔
اگر کسی بیماری سے دوچار ہیں تو اس کے بارے میں سوچ سوچ کر مزید طبیعت خراب کرتے رہنا۔
خدانخواستہ کوٸی بے روزگار ہے تو بلکل مایوس ہوجانا کہ کچھ نہیں ہوسکتا۔محنت سے عارضی بے روزگاری دور کی جاسکتی ہے۔
*جیسے covid 19 میں بہت سے لوگ جو بے روزگار ہوۓ تھے،برگر،سینڈوچ،آنلاٸن جاب وغیرہ شروع کرکے گھر کے سلسلے کو برقرار رکھا تھا۔*
ہمیں جن نعمتوں سے نوازا گیا ہے،بلکل نظر نہیں آتیں اور اندھوں کی طرح لاحاصل خواہشات کا رونا روتے رہتے ہیں۔
اس دنیا میں %90 سے زیادہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے اور ہم mineral water پی کر بھی اداس اور پریشان ہیں!!
*پریشان ہونے کو avoid کیسے کرسکتے ہیں؟*
📖قرآن پاک میں موجود سورة الضحی میں نبی کریم ﷺ کی دلجوٸی کی گٸ ہے واضح الفاظ کے ساتھ اور تاقیامت تمام مسلمانوں کے لیے عالمگیر پیغام ہے کہ ہمارا رب ہمیں کسی حال میں تنہا نہیں چھوڑتا،اور نہ ہماری پریشانیاں ہمیشہ رہنے والی ہیں۔
خود پر work کریں ۔جیسے ہی اداسی طاری ہونے لگے تو
تعوذ پڑھا کریں۔
لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھ لیا کریں۔
خود کو کسی productive کام میں مصروف کرلیا کریں۔
*مثبت بات کو سوچیں*.
خود سے کم تر لوگوں کو دیکھیں ۔اس سے پریشانی کم ہوگی اور احساس تشکر پیدا ہوگا۔
گھر کی پریشانی ہے تو بے گھروں یا مہاجرین جیسے خانہ بدوش کا سوچ لیں جن کا کوٸی ملک پناہ گاہ نہیں !!
اولاد نہ ہونے کی پریشانی ہے تو اس غم میں دوسروں کے ساتھ تعلقات نہ خراب کریں نہ بلکل ہی ہر معاملے سے لاتعلق ہوجاٸیں۔
اولاد نافرمان ہے اگر تو جن کی اولاد معذور ہے ان کو دیکھیں کہ وہ والدین ان کی شرارتوں کو دیکھنے کو ترستے ہونگے۔
بیمار ہیں تو ایسے مریضوں کا سوچیں جو زندگی سے مایوس ICU میں یا Coma میں ہیں۔
ہم نے اپنے غموں کو devils کی طرح خود پہ حاوی کیا ہوا ہے اور بلکل بےکار non productive ہوکر رہ گۓ ہیں۔ اپنی نعمتوں پر focus کیجے۔
*ہماری سوچ کا اصل مرکز خاتمہ بالخیر ہونا چاہیے۔*
ہمارا رب الرحمن،الرحیم، ہے۔ستر ماٶں سے زیادہ چاہتا ہے اس نے ہمیں ایسے ہی نہیں دنیا میں چھوڑ دیا۔
ہم بے پناہ نوازے گۓ ہیں ۔ہمارا رب صرف چند لوگوں کے قریب نہیں وہ تمام جہانوں کا رب ہے۔ رب العالمین ہے.اپنے رب کا تقوی اختیار کریں اور دنیا کو عارضی ٹھکانہ جس کی پریشانیا ں بھی عارضی ہیں۔
*ان شإ اللہ*
0 تبصرے