عام لوگوں کی پریشانی کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی چیز کا سہارا لیتے ہیں جس کا اپنا کوئی سہارا نہیں۔ یہی وجہ ہے ضرب المثل کے طور پر بولا جاتا ہے:
[الغريق يتشبث بكل حشيش]
ڈوبتا شخص ہر تنکے کو سہارا بنانا چاہتا ہے۔ وہ انسان جو دریا یا سمندر میں ڈوب رہا ہو وہ ہر تنکے کا سہارا لینے کی کوشش کرتا ہے ہاتھ پاؤں مارتا ہے تاکہ نجات پیدا کر لے وہ سمجھتا ہے گویا وہ تنکہ جس کا وہ سہارا لے رہا ہے
اس کی جڑیں کہیں موجود ہیں اور وہ مضبوط ہے۔ (جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بغیر جڑ کے ہے اور خود سہارے کا محتاج ہے۔)
جو لوگ دنیا کی محبت میں غرق ہیں وہ ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔ سہارا ڈھونڈتے ہیں۔
جونہی کوئی پریشانی لاحق ہو کبھی اس کے پاس کبھی اس کے پاس سہارا ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کے زرق و برق سے سہارا لینا چاہتا ہے تاکہ پریشانی سے نجات ملے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ اسے پریشانی سے نجات نہیں ملتی۔ (چونکہ دنیا، خود سہارے کی محتاج ہے۔)
.jpeg)
0 تبصرے