*عربی حکایت*

 *╭┄┅┅┅─══❁﷽❁══─┅┅┅•┄╮*

     *🤝​اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎​*  

 ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖



کلاس میں داخل ہوتے ہی قانون کے پروفیسر نے ایک طالب علم سے نام پوچھا،

مودبانہ انداز میں کھڑے ہو کر جب اس نے نام بتایا تو پروفیسر نے فورا اسے کلاس سے نکلنے کا حکم دیا۔

طالب علم نے استاد سے وجہ جاننے کی کوشش کی لیکن استاد نے اس کی ایک نہ سنی اور اس بار سخت لہجے میں اسے نکلنے کو کہا ۔

ظلم کا احساس کرتے ہوئے طالب علم سر جھکائے کلاس سے نکل گیا۔

کلاس کے باقی طلباء خاموشی سے سارا منظر دیکھ رہے تھے۔

لیکچر شروع ہوا ۔ پروفیسر نے طلباء سے سوال کیا ۔ ریاستی قوانین کیوں وضع کیےجاتے ہیں؟

ایک طالب علم نے جواب دیا ۔ لوگوں کی جان ،مال آبرو اور حقوق کے تحفظ کے لیے ۔

ایک دوسرے سٹوڈنٹ نے جواب دیا: تاکہ ان قوانین کو معاشرے پر لاگو کیے جائیں۔

تیسرے نے جواب دیا: تاکہ کوئی طاقت ور کمزرو پر ظلم نہ کرسکے۔

کچھ دیر خاموشی کے بعد پروفیسر نے کہا :کوئی اور جواب؟

ایک طالب علم نے مودبانہ انداز میں کہا 

قوانین اس لیے وضع کیے جاتے ہیں تاکہ عدل و انصاف کا بول بالا ہو ۔

پروفیسر نے کہا :ہاں یہ جواب درست ہے۔ تاکہ عدل وانصاف کا بول بالا ہو 

طالب علم کے جواب کی تائید کے بعد پھر سے پروفیسر نے سوال پوچھا کہ 

عدل وانصاف کا فائدہ کیا ہے ؟

اسی طالب علم نے پھر سے جواب دیا 

فائدہ یہ ہے کہ سماجی حقوق محفوظ رہیں گے اور کوئی کسی دوسرے پر ظلم کرنے کی جراٗت نہیں کرے گا۔

پروفیسر نے توجہ سے جواب سنا اور پھر سے پوری کلاس کو مخاطب کرتے ہو کہنے لگا 

اس بار مجھے بلاخوف سب جواب دو ۔ جب میں نے تمہارے کلاس فیلو کو کلاس سے بلاوجہ نکال دیا  کیا میں نے ظلم نہیں کیا؟

سب نے بیک آواز میں جواب دیا ۔ جی ہاں 

اب کی بار پروفیسر کا انداز بدل گیا اور سخت غصے میں کہنے لگا

جب تمہیں معلوم تھا کہ میں نے ظلم کیا تو تم سارے خاموش تماشہ کیوں دیکھ رہے تھے؟ اگر ہم قانون والوں میں قانون لاگو کرنے کی جراٗت نہیں تو پھر اس قانون کا فائدہ کیا ؟

اگر کسی پر ظلم دیکھ کر بھی تم خاموش رہ کر اس کے حق کا دفاع نہیں کروبگے تو تم قانون دان تو کیا انسان کہنے کے بھی لائق نہیں ہو۔

یہ کہہ کر پروفیسر کلاس سے نکل گیا ،کچھ دیر میں اس طالب علم کو ساتھ لیکر واپس کلاس میں حاضر ہوا۔ طالب علم سے سب کے سامنے معذرت کی ۔ کلاس کا وقت ختم ہوا کلاس سے نکلتے ہوئے پروفیسر نے طلباء سے کہا ۔

یہ تھا تمہارا آج کا سبق ۔ جب تک زندہ ہو اس سبق کو یاد رکھو !


عربی سے اردو ترجمہ




*کیا آج آپنے درودِ پاک پڑھا؟*

 *صلی اللہ علیہ والہ وسلم*


*رات سوتے وقت والدین کے* 

*قدم بُوسہ کی ترکیب فرماٸیں* 

۔  ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے