*مری میں جن افراد کی گاڑیوں میں ہلاکت کی اطلاعات ہیں اور ان کی جو وڈیوز اور تصاویر میں نے دیکھی ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے* 👇




*1- ان کے چہرے پر کرب کے کوئی آثار نہیں تھے*

*2- ان کے چہروں پر نیند والا سکون تھا*

*3- ان کی باڈی لینگویج بھی یہ شو کر رہی تھی کہ یہ سکون کی کیفیت میں تھے اور آرام سے سو رہے تھے۔*


*اس حوالے سے کچھ رہنمائی دینا چاہوں گا (یہرہنمائی چند ہفتے پہلے پیج گروپس چینل میں افتخار جامی صاحب نے روزانہ کی بنیاد پر موسم کی فورکاسٹ اپ کے ساتھ شیئر ضرور کرتے رہے*۔)👍


*1- کبھی بھی سوتے وقت ہیٹر چلا کر نہ سوئیں (چاہے وہ گاڑی والا ہیٹر ہو، گھر میں گیس والا ہیٹر ہو یا بجلی سے چلنے والا ہیٹر ہو*


*2- اگر بالفرض گاڑی کا ہیٹر آن کر کے سونا ہی ہے تو گاڑی کے شیشے ایک سے دو انچ نیچے کر کے سوئیں (تاکہ گاڑی کے اندر آکسیجن کی فراہمی میں کوئی تعطل نہ آئے اور دم نہ گھٹے*)


*یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان افراد نے کوئی مزاحمت کیوں نہیں کی*؟ *اس حوالے سے بتاتا چلوں کہ جب بند جگہ پر آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور انسان سو رہا ہو تو اس کی غنودگی/غشی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور وہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اسے نیند آ رہی ہے جبکہ دراصل وہ بے ہوشی کی کیفیت میں جا رہا ہوتا ہے*۔!!


*اس لیے جب بھی ایسی صورتحال پیش آئے کہ ہیٹر آن ہی کر کے سونا ہے تو سونے سے پہلے ہوا کی کراسنگ (ventilation) اور آکسیجن کی مقررہ مقدار کی دستیابی کے لیے گاڑی کے شیشے ایک سے دو انچ نیچے کر کے سوئیں ورنہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے*۔

*اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو*۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے