ایمانداری کا کیڑا

 



ایمانداری کے کیڑے کی پرورش کےلئے آپ کو پل پل خود سے خود کی جنگ لڑنا پڑتی ہے،،

تب جاکر ایمانداری کے کیڑے کی کامیاب پرورش ہوتی ہے،،

ضمیر کی طاقت کا اندازہ تب ہو پاتا ہے،،   

جب انسان ایمانداری کے درجے کو پا لیتا ہے،،

تو اللہ انسان کو وہ طاقت جرات دلیری اور خودداری عطا کرتا ہے،، جس کے سامنے کھڑا بڑے سے بڑا طوفان بھی اس کو متزلزل نہیں کر پاتا،،


مگر ایمانداری ہی پاکستان جیسے گلے سڑے بدبودار نظام میں رہ کر کامیابی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،،،


میں جب مافیاز کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ میں اپنے مخالفین پر تنقید کر رہا ہوں،،


مافیاز نے ہمارے نظام کو زنگ آلود کر دیا ہے،،،


ہماری پارٹی میں بھی مافیاز نے اپنے پنجے مضبوتی سے گاڑھے ہوئے ہیں،،


جو نظریاتی کارکنوں کو کبھی بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں،،


ہر جگہ غلامی اور اقربا پروری کا دور دورہ ہے،،


آگے بڑھنے کا ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ ہے خوشامد،،،


جب اپنی پارٹی کی تنظیم سازی کے سلسلہ میں اپنے ضلع جھنگ کے طول و عرض کے دورے کیے تو مجھے بہت مایوسی ہوئی اور رنجیدہ بھی ہوا،،


یہاں پر ہر شخص بھلے جاگیردار ہو زمیندار ہو یا کتنی بھی بڑی حیثیت کا مالک ہو،،


اس کی سوچ غلامانہ ہے،،

وہ کسی نہ کسی شکل میں کسی دوسرے کا غلام ضرور ہے،،


اسی غلامانہ سوچ نے میرے قدیم ضلع جھنگ کو آج تک ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہونے دیا،،،


یہی وجہ ہے جب بھی بدقسمتی سے ہمیں کوئی عہدہ یا طاقت ملتی ہے،،

ہم کمپلیکس کی بیماری

"احساس برتری ہو یا احساس کمتری" 

 کا شکار ہو جاتے ہیں،،

سب سے پہلے تو خود کو ان سے جن کی وجہ سے آپ کو یہ مقام اور مرتبہ ملتا ہے ان سے خود کا رابطہ منقطع کر لیتے ہیں،،

اور ان کے مسائل حل کرنا تو دور کی بات ان کی بات تک سننے کو تیار نہیں ہوتے،،

جب کسی نااہل شخص کو کوئی عہدہ اور مقام ملے گا تو اس نے اپنی اصلیت تو بحر ہال دکھانا ہی ہوتی ہے،،

اور یہی رویہ عوام میں ان کی نفرت کو جنم دیتا ہے،،


یہی ایک بنیادی وجہ ہے جس سے اہل اور قابل انسان تو دھکے کھا رہے ہیں،،  

ڈاکو اور چور ہم پر مسلط ہیں،،

جنہوں نے قوم سےلوٹا ہوا کھربوں روپے کا دھن دولت ملک سے باہر منی لا نڈرنگ کے ذریعہ انویسٹ کیا ہوا ہے،،

اور ہم پر حکمرانی کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں،،


عوام کو اب شعور آ چکا ہے،،

وہ دن دور نہیں جب ان کرپٹ مافیاز کو قوم عبرت کا نشان بنا کر ہی دم لے گی،،


عمران خان ایک سیاسی حقیقت بن چکا ہے،،

اور مقبولیت کی بلندیوں پر ہے،،


کرپٹ مافیا کی سیاست کا جنازہ نکل چکا ہے،،


میں سمجھتا ہوں بلدیاتی اداروں کا قیام ہی آپ کے علاقے کی ترقی کا واحد راستہ ہیں،،


ترقیاتی فنڈز بلدیاتی اداروں کو ملنے چاہییں،،


ایک تو علاقے کی بنیادی ضروریات اور مسائل بلدیاتی نمائندے احسن طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں،،

 

دوسرا بلدیاتی نمائندے عوام کی دسترس میں ہونگے،،

جس سے علاقے کے مسائل آسانی سے حل ہو پائیں گے،،

بلدیاتی اداروں کے فعال ہونے سے پاکستان کو بہترین اور ایماندار قیادت میسر ہو پائے گی،،


ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ترقیاتی فنڈز کے حصول پر مکمل پابندی ہونی چاہییے،،

ان کی ذمہ داری صرف اور صرف قانون سازی ہو،،،

اس سے کافی حد تک کرپشن کا خاتمہ ہو سکتا ہے،،،

فائدہ یہ ہوگا،،،

کہ اوپری سطح پر صرف حقیقی اور خدمت کے جذبہ سے سر شار تعلیم یافتہ نمائندے ہی آ پائیں گے،،


کرپشن کی نیت سے الیکشن لڑنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی،،


انصاف کے نظام کا سستا حصول،،

تعلیم اور صحت کی تمام تر سہولیات عوام کے بنیادی حقوق ہیں،،

یہ اسٹیٹ کی ذمہ داری ہونی چاہییے،،

عوام کے سر سے اگر یہ بوجھ اسٹیٹ اپنے ذمہ لے لے تو عوام کو بہت بڑا ریلیف مل جائے گا،،

اس سے عوامی مسائل میں کافی حد تک کمی آئے گی،، 


جب ہوش سنبھالا تو انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور ایمانداری والدین سے تحفے میں ملی،،


خوش قسمتی ہے کہ مجھے مخلص دوستوں کا بہترین حلقہ احباب میسر ہوا،

جس پر مجھے ہمیشہ فخر رہے گا،،


کاروبار میں آیا تو کاروبار کو بھی اسی جذبے سے سرشار سوچ کے مطابق چلانے کی کوسش کی،،

میں سمجھتا ہوں، 

کاروباری شخص خود غرضی اور لالچ کا دوسرا نام ہے،،

کیونکہ خود غرض کاروباری سوچ کے انسان کو معاشرہ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا،،

یا تو آپ پیسہ کما سکتے ہیں یا عزت اور مقام ،،

ہمیشہ عزت کو ترجیح دی،،


کیونکہ پاکستانی کرپشن سے آلودہ نظام میں زیادہ تر لوگوں کی نظروں میں ایماندار کبھی آگے نہیں بڑھ پائے،،

جو بھی آگے نکلا وہ شارٹ کٹ اور کرپشن سے ہی آگے نکل پایا،،


روٹری انٹرنیشل 

ویلفیئر آرگنائزیشن میں انتہائی فعال حیثیت میں انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہا،،

یہ انسانیت کی خدمت کا واحد ادارہ ہے جو فلاحی کاموں میں اپنے مدد آپ کے اصولوں کے تحت چلتا ہے،،

اور لیڈر شپ ٹریننگ میں ایک انسٹی ٹیوٹ کی حیثیت رکھتا ہے،،

 متعدد مرتبہ اہم ترین پوسٹس پر اہم ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھانے کی کوسش میں رہا،، 

روٹری فیملی میں آج 32 سال گزر چکے ہیں،، 

 فخر ہے کہ اس آرگنائزیشن کا اہم حصہ ہوں،،  

دوستوں کے ساتھ مل کر شہر کے لئے سینکڑوں فلاحی کاموں میں بنیادی کردار ادا کیا اور فخر محسوس کرتا ہوں کہ روٹری کی پہچان ہوں،،


چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسری میں 1994 سے آج 28 سال گزر چکے ہیں،،

 بہترین خدمات سرانجام دیں،،

اہم ذمہ داریاں نبھائیں،،

چونکہ روٹری سے دوستوں کا حلقہ احباب چیمبر میں بھی ساتھ رہا تو سوچ انسانیت کی خدمت کی تھی تو اس بڑے ادارے کو بھی اسی فکر کے ساتھ چلایا،،

 بزنس کمیونٹی اور شہر کے لئے انہیں دوستوں کے ساتھ مل کر بہترین کردار ادا کیا اور اپنے شہر اور بزنس کمیونٹی کی بہتری کے لئے بھر پور رول پلے کیا،،


دنیا کے دسیوں غیر ملکی دورے کئے اور ترقی یافتہ دنیا کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا،،


جدوجہد کوئی آسان کام نہیں ہے،، 

جس کے لئے قربانیاں بھی دینا پڑتی ہیں،،،

کیونکہ کچھ کر گزرنے کا جذبہ سکون سے نہیں بیٹھنے دیتا،،

تو سیاست میں بھی پنجہ آزمائی کی کوسش کرتا رہا،،


1996 سے آج 26 سال ہو گئے ہیں،،

 پارٹی کا فعال بانی کارکن ہوں اور متعدد مرتبہ پارٹی نے انتہائی اہم ذمہ داریوں سے بھی نوازا،،

اور ہمیشہ اسی تگ و دو میں رہتا ہوں کہ اپنے ملک اور شہر کی ترقی میں اپنا کوئی کردار ادا کر سکوں،،


مگر یہ مافیا یہ سسٹم میرے جیسے انسان کو کسی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں،،

یا شاید مس فٹ ہوں،،

کیونکہ ان کے راستے کی دیوار ہوں،،


آج تک یہ علم نہیں ہو سکا کہ یہ کیوں مجھے اپنے لئے خطرہ تصور کرتے ہیں،،


ہم غلام نہیں ہیں،،

قوم کو غلامی کی زنجیروں کو توڑنا ہی ہو گا،،

تب جا کر کرپٹ مافیا سے حقیقی آزادی کی جنگ جیتی جا سکتی ہے،،

کسی کی بھی غلامی برداشت نہیں کر سکتا،،

 

غلط کو غلط ہی سمجھتا ہوں اور اس کا اظہار ہمیشہ دلیری اور جرات سے کرتا ہوں،،


اپنی لیڈر شپ پر بھی جائز تنقید جو میری پارٹی اور لیڈر شپ کی بہتری کے لئے ہو اس کا موقع کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا،،


اپنی پارٹی کے اندر چھپے مافیاز کو بھی تنقید کا نشانہ بنانے سے باز نہیں آسکتا،،


یہ میں ہی تھا جس نے پارٹی میں 2 کلاسز کی نشاندہی کی تھی،،


ایلیٹ کلاس اور ورکرز کلاس،،


ایلیٹ کلاس نے کبھی ورکرز کلاس کو آگے نہیں بڑھنے دیا،،

ہمیشہ ورکرز کے راستے کی دیوار بنتے رہے،،


نظریاتی کارکنوں کے حقوق کی آواز ہوں اور ہمیشہ یہ آواز دلیری سے اٹھاتا رہا ہوں اور ہمیشہ اٹھاتا رہوں گا،،


کارکن ہی پارٹی کا قیمتی اثاثہ ہیں،،


آج پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول پارٹی بن چکی ہے اور یہ صرف اور صرف کارکنوں کی بیش بہا قربانیوں کا ہی صلہ ہے،،


اسی لئے پارٹی میں نظریاتی کارکنوں کو ان کا جائز مقام ملنا چاہییے،،


بارہا مرتبہ حق اورسچ کی آواز بلند کرنے پر پارٹی میٹنگز اور ورکرز کنونشز میں میرے مائیک بند کر دیئے جاتے رہے،،

مجھ سے مائیک چھینے جاتے رہے،، 

مگر ہمیشہ عمران خان اور مخلص لیڈر شپ نے مجھے بھر پور سپورٹ کیا اور میری حوصلہ افزائی کی،،

 میری مثبت تنقید کو سراہا،، میری سجیشنز پر عملی اقدامات بھی کئے،،

جس کے لئے عمران خان اور قیادت کا مشکور ہوں جنہوں نے ہمیشہ میرا حوصلہ بلند رکھا،،


کبھی کسی کی غلامی قبول نہیں کر سکتا،،

کبھی کسی کی خوشامد کرکے اس کو سیڑھی بنا کر آگے نہ کبھی بڑھا ہوں اور نہ کبھی بڑھنا چاہوں گا،،


 اپنے ہی دم پر اپنی صلاحیت اور اہلیت کے بلبوتے پر کامیابیاں حاصل کرنا چاہتا ہوں اور کامیابیاں حاصل کی بھی ہیں،،


حق کی آواز کو بلند کرنے والے کو کوئی کیونکر آسانی سے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے،،


خودداری، جرات، دلیری مجھے میرے پختہ ایمان اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی بدولت ہی ملی ہے،

ویثرن، جنون ، نظریہ مجھے میرے لیڈر عمران خان نے دیا ہے،،


مطمئن ہوں کہ اللہ نے مجھے جو خوبصورت زندگی تحفہ میں دی ہے،،

انسانیت کی خدمت میں گزاری ہے،،

جتنا ممکن ہو سکا اپنے ملک پاکستان اور اپنے شہر کی ترقی کی جدوجہد میں گزار دوں گا،


اپنے لئے جیا بھی تو کیا جیا،،

جینا تو وہ ہے جو دوسروں کی خدمت میں جیا جائے،،


انصاف کا نظام،،،ہمارا عزم

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے